Al-Risala · February 2014 · page 45

تخلیقی حل

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۴۵

تخلیقی حل

موجودہ زمانے میں کمپیوٹر کلچر اور انٹرنیٹ کے دور میں عام آدمی استعمال رہتا موجودہ زمانے میں کمپیوٹر پر نچر اور انڈسٹری کے حلقوں میں ایک لفظ بہت استعمال ہوتا ہے، اور وہ ہے۔ تخلیقی حل (creative solution) یعنی جب کوئی نیا مسئلہ پیش آئے تو اس کے بارے میں از سر نو غور کرنا، نئے انداز سے مسئلے کا حل تلاش کرنا۔ اس طرح جو حل در یافت ہوتا ہے، اس کو تخلیقی حل کہا جاتا ؀ تخلیقی طرزِ فکر ایک نیا ذہن دیتاہے، جس کی روشنی میں مسئلے کا زیادہ مؤثر حل دریافت کیا جا سکے: تخلیقی حل کا اصول صرف کمپیوٹر کا اصول نہیں ہے، بلکہ یہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ کمپیوٹر کی دنیا میں اِس اصول کا سیکولر استعمال کیا گیا ہے۔ یہی اصول خود اسلام میں بھی پوری طرح مطلوب ہے۔ اسلام میں جس چیز کو اجتہاد کہا گیا ہے، اُس سے مراد یہی اصول ہے۔ خواہ مذہب کا دائرہ ہو یا سیکولر دائرہ، ہر دائرے میں بار بار اس کی ضرورت پیش آتی ہے کہ لوگ کھلے ذہن کے ساتھ از سرِ نو غور کریں ۔ وہ تعصب جیسی چیزوں سے بلند ہو کر مسئلے کا نیا اور کار گر حل تلاش کریں ۔ تخلیقی ذہن (creative mind) کا مالک کون ہے، یہ وہ انسان ہے جو تعصبات (prejudices) سے خالی ہو، جو چیزوں کے بارے میں بے آمیز انداز میں سوچ سکے، جو آخری حد تک کھلا ذہن (open mind) رکھتا ہو، جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر خالص موضوعی (objective) انداز میں رائے قائم کرسکتا ہو۔ یہی وہ انسان ہے جو کسی معاملے میں تخلیقی حل (creative solution) تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

تعصب کا مزاج تخلیقی ذہن کا پردہ ہے اور بے تعصبی کا مزاج تخلیقی ذہن کو کھول دینے والا ہے۔ اپنے آپ کو کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے والا بنائیے، اپنی فطرت کو ہر حال میں زندہ رکھیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کے ذہن نے مشکل ترین حالات میں بھی مسئلے کا ایک قابلِ عمل حل دریافت کر لیا ہے۔ ے کہ آپ کے دامن سے۔ سارے رین حالات میں سے ایک کا بھی اس کی در یافت کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page