انسانی خیرخواهی
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۹
انسانی خیرخواهی
قرآن کی سورہ الاعراف میں پیغمبر کی زبان سے اس بندعو کے لئے الفاظ آر رہے ہیں: مولا نا قرآن مجید سورۃ الاعراف میں پیمبر کی زبان سے اپنے مدعو کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ (7: 68)۔ یعنی اور میں تمھارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ پیغمبر کی یہ خیر خواہی صرف اپنی قوم کے لئے نہیں ہوتی ، بلکہ اس کی خیر خواہی تمام انسانوں کے لئے ہوتی ہے: Well wishing for all mankind خدا کی طرف سے جو پیغمبر دنیا میں آئے، ان سب کا مشن ایک تھا۔ اس پیغمبرانہ مشن کے دو بنیادی نکتے تھے، ایک اللہ کو اپنا واحد کنسَرن (sole concern) بنانا، اور بلا تفریق ہر انسان کا خیر خواہ ہونا۔ یہی مشن پچھلے تمام پیغمبروں کا تھا، اور پیغمبر آخرالزماں محمد کا مشن بھی۔ اب امت محمدی کو ہر زمانے میں اسی مشن کو زندہ رکھنا ہے۔
ہو کہ وہ انسان کے پورے وجود کو اپنے رنگ میں رنگ لے۔ انسان کی پوری شخصیت اسی معرفت میں ڈھل جائے۔ اس کی سوچ اور اس کا قول وعمل اس کے عین مطابق ہو جائے ۔ یہی وہ عارفانہ شخصیت ہے جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (3:79) کہا گیا ہے۔
انسانی خیر خواہی وہ بنیادی اصول ہے، جس پر تمام انسانی تعلقات کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر انسان دوستی (human friendly behaviour) کا کردار بنتا ہے۔ سماج کا ہر فرد سماج کے لئے دینے والا ممبر (giver member) بن جاتا ہے۔ اپنی اصول پسندی کی بنا پر سماج کا ہر فرد قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل بن جاتا ہے۔ ہر انسان کے اندر یہ مزاج پرورش پاتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے۔ جو سلوک وہ دوسروں سے اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues