Al-Risala · January 2015 · page 10

جنت کی زندگی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۰

جنت کی زندگی

قرآن کی سورہ فصلت میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کے لئے جنت کی زندگی کیسی ہوگی۔ اس سلسلہ میں فرشتوں کی زبان سے ان کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)۔ یعنی اور تمھارے لئے وہاں وہ سب ہے، جس کو تمھارا دل چاہے، اور تمھارے لئے وہاں وہ سب ہے، جس کو تم طلب کرو۔

قرآن کی اس آیت میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ اشْتہاء اور ادعاء۔ اشْتہاء کا مطلب ہے چاہنا (to desire)، اور ادعاء کا مطلب ہے طلب کرنا (to demand)۔ یہ دونوں الفاظ جنت کی دو مختلف نعمتوں کو بتا رہے ہیں، اور وہ ہیں مادی نعمت اور فکری نعمت۔ اشتہاء میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کا تعلق مادی خواہش (material desire) سے ہے، اور ادعاء میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کا تعلق ذہنی طلب (intellectual demand) سے ہے۔ جنت میں یہ دونوں قسم کی نعمتیں اہل جنت کو کامل درجے میں حاصل ہوں گی۔ جب کہ موجودہ دنیا میں ان چیزوں کا حصول صرف محدود طور پر ممکن ہوتا ہے۔ انسان کی جو مادی خواہشیں ہیں، وہ اسے موجودہ دنیا میں بھی حاصل ہیں، لیکن صرف محدود طور پر۔ انسان اپنے پیدائشی مزاج کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ اس کی ہر خواہش اس کو لامحدود طور پر حاصل ہو۔ لیکن موجودہ عارضی دنیا میں خواہشات کی لامحدود تسکین ممکن نہیں۔ جنت میں یہ محدودیت ختم ہو جائے گی۔ جنت ایک لامحدود دنیا ہوگی۔ اس لئے وہاں اہل جنت کے لئے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنی ہر خواہش کی تکمیل لامحدود طور پر حاصل کر سکیں۔ یہی معاملہ انسان کی ذہنی طلب (intellectual demand) کا ہے۔ انسان کے اندر تفکیر (thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے تفکیر کی عمل (thinking process) کو لامحدود طور پر جاری کر سکے۔ مگر موجودہ دنیا میں جو دستیاب فریم ورک (available framework) ہے، وہ محدود فریم ورک ہے۔ اس لئے یہاں وہ اپنے تفکیر کی عمل کو صرف محدود طور پر جاری کر سکتا ہے۔ جنت میں یہ محدودیت ختم ہو جائے گی، اس لئے جنت

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page