شیطان سے دوری
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۶
شیطان سے دوری
ایک حدیث رسول عمر بن خطاب کے حوالے سے ان الفاظ میں آئی ہے: یا عمر، فوالله، إن لقيك الشيطان بفج قط، إلا أخذ فَجًّا غير فجك (مسند أحمد، رقم الحديث : 1624) یعنی اے عمر، خدا کی قسم، شیطان اگر کبھی تمھارے راستے میں آتا ہے، تو وہ ہمیشہ تمھارے راستے کے سوا ایک اور راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ ایک شخص کی فضیلت کے طور پر نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اصول کے بیان کے طور پر ہے۔ ایک شخص کا نام اُس میں بطور علامت ہے، نہ کہ بطور فضیلت۔ اصل یہ ہے کہ شیطان سے حفاظت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی بیداری (intellectual awakening) کتنی زیادہ آئی ہے۔ اس حدیث میں حضرت عمر کا نام ایک علامتی مثال کے طور پر ہے۔ حضرت عمر کا معاملہ یہ تھا کہ ان کے اندر کامل درجہ میں تواضع (modesty) پائی جاتی تھی۔ وہ علم کے بہت زیادہ حریص تھے۔ وہ اپنی غلطی کے اعتراف میں ایک لمحہ کی دیر نہیں کرتے تھے۔ ان صفات نے حضرت عمر کو ایک بے حد حساس انسان بنا دیا تھا۔ ان کی یہ حساسیت اپنی ذات کے بارے میں نہ تھی، بلکہ حق کے بارے میں تھی۔ کسی امرِ حق کو پہچاننے میں وہ ایک لمحہ کی تاخیر کا تحمل نہیں کر سکتے تھے۔
ان صفات کا نتیجہ یہ تھا کہ حضرت عمر قرآن کی اس آیت کا کامل مصداق بن گئے تھے: اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُونَ (7:201) یعنی جولوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، جب شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فورا چونک پڑتے ہیں۔ اور پھر اسی وقت ان کو سمجھ آ جاتی ہے۔ حدیث میں شیطان کے راستہ بدلنے کی بات در اصل ایک تمثیلی اسلوب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا انسان اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسہ کا تجزیہ کرے اور اس طرح وہ اس سے متاثر نہ ہو۔ ایسے آدمی کی ذہنی بیداری اُس کو ایسے مواقع سے محفوظ رکھنے کی ضامن بن جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues