یقین کا سرچشمہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۱۳
یقین کا سرچشمہ
اسلام میں صبر (patience) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ صبر پر بے حساب انعام کا وعدہ کیا گیا ہے: إِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10) یعنی بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ جنت ان کو ملے گی جنھوں نے دنیا کی زندگی میں صبر کیا (76:12)۔ صبر کا ایک فائدہ وہ ہے جو انسان کو آخرت میں ملے گا۔ لیکن صبر کا فائدہ اسی موجودہ دنیا میں شروع ہو جاتا ہے۔ صبر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی مایوسی کی نفسیات سے بچ جاتا ہے۔ مایوسی کی نفسیات میں جینے والے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ بے یقینی (uncertainty) کی نفسیات میں جینے لگتا ہے۔ ایسا آدمی کبھی حوصلہ مندانہ انداز میں اپنی زندگی کا منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا آدمی اپنی زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کرپاتا- صبر کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ صبر آدمی کو اس نفسیات سے بچا لیتا ہے کہ وہ کھوئے ہوئے کو نہ بھلائے۔ ایسا آدمی کامل معنوں میں یقینیت (certainty) میں جینے لگتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ اور اس کے نتیجہ میں بڑی کامیابی حاصل کرے۔
یقین (conviction) انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ کوئی بڑا کام وہی شخص کر سکتا ہے جو یقین میں جیتا ہو۔ قرآن میں صبر کو اتنی زیادہ اہمیت اسی لئے دی گئی ہے کہ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بے یقینی کے اسباب کو نظر انداز کر کے صرف ان چیزوں پر فوکس کرے جو آدمی کے اندر یقین پیدا کرنے والی ہیں۔ موجودہ دنیا میں ہر لمحہ ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو آدمی کے ذہن کو بھٹکا کر بے یقینی کی طرف لے جاتے ہیں۔ صبر آدمی کو اس بھٹکاؤ سے بچاتا ہے۔ وہ آدمی کو ہر حال میں یقین پر قائم رکھتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues