قرآن کا ایک پہلو
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۲۱
قرآن کا ایک پہلو
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے ساتھ دو قسم کے واقعات پیش آئے۔ ایک یہ کہ مخالفین کی جارحیت (aggression) کی بنا پر قتال، اور دوسری چیز ہے مخالفین کی طرف سے مظالم کا ارتکاب۔ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن میں قتال کے واقعات کا ذکر تو موجود ہے لیکن جہاں تک مخالفین کے مظالم کا تعلق ہے وہ تقریباً غیر مذکور واقعات (unreported events) بنے ہوئے ہیں۔ مظالم کے واقعات ہم کو تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتے ہیں، قرآن سے نہیں۔
اس فرق کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں قتال کی آیتیں امت کے تاریخی کردار (historical role) کو بتانے کے لئے ہیں۔ وہ امت کے مستقل مشن (permanent mission) کو بتانے کے لئے نہیں ہیں۔ امت کا مستقل مشن پر امن دعوت الی اللہ ہے۔ قدیم عرب میں قتال کا واقعہ وقتی ضرورت کے تحت اس لئے پیش آیا کہ جبر کے دور (despotic rule) کو ختم کر کے دنیا میں آزادی کا دور لایا جائے تاکہ انسان کو جو کرنا ہے، اس کو وہ آزادانہ طور پر کر سکے۔ قرآن میں اس واقعے کو ختم فتنه (2:193، 8:39) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
قدیم عرب میں رسول اور اصحاب رسول کے ساتھ ظلم کے بڑے بڑے واقعات پیش آئے، مگر قرآن میں صراحتاً ان کا ذکر موجود نہیں۔ البتہ صبر یا اس کے ہم معنی الفاظ کی آیتیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مظالم پر شکایت اور احتجاج کیا جائے، اس کے بجائے قرآن یہ چاہتا ہے کہ اہل اسلام اس قسم کی باتوں پر صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کریں۔ صبر و تحمل کا طریقہ کوئی انفعالی (passive) طریقہ نہیں۔ صبر و تحمل ایک اعلیٰ درجہ کی ایجابی صفت ہے۔ صبر و تحمل کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو آخری حد تک منفی سوچ (negative thinking) سے بچانا، اپنی پوری توانائی (energy) کو تعمیری مقصد کے لئے صرف کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues