Al-Risala · March 2015 · page 22

قرآن کا ایک پہلو

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۲۲

فطرت کا نظام

قرآن کی سورہ التوبہ میں ایک واقعہ کے ریفرنس میں فطرت کا ایک قانون (9:36) بتایا گیا ہے۔ خالق کو یہ مطلوب ہے کہ یہ قانون تاریخ میں مسلسل طور پر قائم رہے، تاکہ تخلیق کا مقصد پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو۔ چوں کہ انسان کو آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے۔ اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کر کے اس رکاوٹ کو درست کرتا ہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے۔

اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میں نسی (intercalation) کا واقعہ ہے۔ تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (Lunar calendar) اور شمسی کیلنڈر (Solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً گیارہ دن کا فرق ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں عربوں نے نسی کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ خود ساختہ طور پر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کر کے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کر لیتے تھے۔

یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کر دیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کر دیا۔ حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو، خطبہ حجۃ الوداع، صحیح البخاری: 3197 ، صحیح مسلم: 1679۔

اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد (religious persecution) ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page