عملِ مزید، جنتِ مزید
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۲۵
عمل مزید کیا ہے، اس کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عن أنس بن مالك، قال: كان عبد الله بن رواحة إذا لقي الرجل من أصحابه، يقول : تعال نؤمن بربنا ساعة، فقال ذات يوم لرجل، فغضب الرجل، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، ألا ترى إلى ابن رواحة يرغب عن إيمانك إلى إيمان ساعة؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يرحم الله ابن رواحة، إنه يحب المجالس التي تتباهی بها الملائكة (مسند احمد : 13796)۔ یعنی انس بن مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن رواحہ کا طریقہ یہ تھا کہ کسی آدمی سے ان کی ملاقات ہوتی تو وہ کہتے: آؤ، ہم اپنے رب پر ایک ساعت کے لئے ایمان لائیں، انھوں نے ایک دن یہی بات ایک آدمی سے کہی۔ وہ آدمی یہ سن کر غضب ناک ہو گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا اے اللہ کے رسول، کیا آپ نے ابن رواحہ کو نہیں دیکھا وہ آپ پر ایمان کے بعد ایک ساعت کے ایمان کی ترغیب دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ابن رواحہ پر اللہ رحم کرے، وہ ایسی مجلسوں کو محبوب رکھتے ہیں جس پر فرشتے رشک کرتے ہیں۔ یہ واقعہ تقابلی انداز میں بتاتا ہے کہ عمل عام کیا ہے اور عمل مزید کیا ہے۔ عمل عام یہ ہے کہ آدمی روٹین (routine) کے درجے میں معلوم احکام پر عمل کرے۔ مثلاً روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا، اور سال میں ایک مہینہ کا روزہ رکھنا۔ اخلاص کے ساتھ اپنی زندگی میں ان معلوم احکام کی پابندی کرتے رہنا۔ ایسا شخص بھی بشرط نیت آخرت کی جنت میں جگہ پائے گا، مگر یہ جنت اس کے لئے جنت عام ہوگی۔ اس کے مقابلے میں دوسرا انسان وہ ہے جو اللہ کی کتاب اور اللہ کی آیات (signs of God) (in nature میں غور کرے، وہ تدبر اور تفکر کے ذریعے معرفتِ خداوندی کے نئے نئے پہلو در یافت کرے، وہ اپنے سادہ ایمان کو تخلیقی ایمان (creative faith) بنائے، وہ اپنے آپ کو خود در یافت کرده سچائی (self-discovered truth) پر کھڑا کرے۔ ایسا شخص گویا اپنی کوشش سے عمل مزید کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے انسان کے عمل مزید کی قدر دانی اس طرح فرمائے گا کہ اس کو جنت مزید (additional Paradise) یا خصوصی جنت میں داخلہ عطا کرے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues