Al-Risala · March 2015 · page 24

عملِ مزید، جنتِ مزید

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۲۴

عملِ مزید، جنتِ مزید

قرآن کی سورہ نمبر 50 میں جنت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: لَّهُم مَّا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ (50:35) یعنی وہاں ان کے لئے وہ سب ہوگا جو وہ چاہیں، اور ہمارے پاس مزید ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کسی انسان کو اس کے عمل کے بقدر ملے گی (53:39)۔ مزید غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمل کی دو قسمیں ہیں، عملِ عام اور عملِ خاص۔ قانونِ الہی کے مطابق عملِ عام پر جنت عام ہے، اور عملِ خاص پر جنت خاص۔

عملِ عام یہ ہے کہ آدمی ان معلوم احکام پر عمل کرے، جو بظاہر قرآن وسنت میں لفظوں کی صورت میں بتا دیئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک حدیث کے مطابق، پانچ بنیادی احکام پر عمل کرنا (البخاری: 8)۔ جو آدمی اخلاص نیت کے ساتھ ان متعین احکام پر عمل کرے، اس کے لئے جنت ہے۔ یہ وہ جنت ہے، جس کے لئے ہم نے جنت عام کا لفظ استعمال کیا ہے۔

جنت خاص ان لوگوں کے لئے ہے، جو موجودہ دنیا میں عملِ خاص کا ثبوت دیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عملِ خاص سے مراد وہ عمل ہے، جو اعلیٰ معرفت کا نتیجہ ہو، جو اعلیٰ معرفت کے تحت کسی انسان سے صادر ہو۔ جنت دراصل معرفت کی قیمت ہے۔ عام معرفت پر عام جنت، اور خاص معرفت پر خاص جنت۔

اعلیٰ درجے کے عارفین وہ ہیں جو تدبر کے ذریعے اپنے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا کریں، جو تفکر کے ذریعے کائنات میں چھپی ہوئی آیاتِ الہیہ کو دریافت کریں، جو توسم کے ذریعے زندگی کے ہر تجربے کو اللہ کی معرفت میں ڈھال لیں، جو دعوت الی اللہ کو اس طرح دریافت کریں جو ان کو یک طرفہ طور پر ہر انسان کا خیر خواہ بنا دے، جو تقویٰ کے اس درجے پر پہنچ جائیں جب کہ منفی واقعات کو بھی وہ مثبت واقعات میں تبدیل کر لیں ۔ یہی معرفتِ مزید ہے، اور معرفتِ مزید ہی کسی کو جنتِ مزید کا مستحق بنائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page