Al-Risala · March 2015 · page 30

انتقامی جنگ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۳۰

انتقامی جنگ

فلسطین میں لمبی مدت سے عرب ۔ اسرائیل جنگ ہو رہی ہے۔ اس دوران جو واقعات میڈیا میں آئے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ انگلش میڈیا میں ان الفاظ میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ ایک فلسطینی نوجوان عبد الرحمن نے روتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اپنے باپ کا انتقام لینا ہے: Twelve year old Abdul Rahman Al-Batish hasn't stopped crying since he lost his father in the bombing of an apartment (in Gaza). "They are killers, and one day I will avenge my father". ITV's Middle East Correspondent reports him as saying. انتقامی وار ہمیشہ چین وار (chain war) ہوتی ہے۔ اس قسم کی جنگ کبھی دو طرفہ بنیاد پر ختم نہیں ہو سکتی۔ اُس کو ختم کرنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ اُس کو یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر ختم کر دیا جائے۔

یہ اصول قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا (3:103) یعنی اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اُس آگ سے بچا لیا۔

قرآن کی اس آیت میں قدیم عرب کے اُس قبائلی کلچر کا ذکر ہے جو انتقامی جنگ پر کھڑا ہوا تھا اور اُس کے نتیجہ میں ان کے درمیان چین وار (chain war) کی صورت حال قائم تھی۔ قرآن نے اس سے نجات کا یہ فارمولا بتایا کہ تم اللہ کے لئے یک طرفہ بنیاد پر اپنا تشدد ختم کر دو۔ اس کے بعد اپنے آپ فریق ثانی کا تشدد ختم ہو جائے گا، اور امن کی صورت حال قائم ہو جائے گی۔ ختم جنگ اور قیام امن کے لیے پہلے بھی یہی واحد قابل عمل فارمولا تھا، اور اب بھی اس مقصد کے لیے یہی واحد قابل عمل فارمولا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page