Al-Risala · March 2015 · page 31

اسلام کا اقدام، دعوت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱

اسلام کا اقدام، دعوت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں شوال سنہ 5ھ میں احزاب کا واقعہ پیش آیا۔ اس موقع پر قریش کے سردار بارہ ہزار کا لشکر لے کر آئے تھے کہ مدینہ پر حملہ کریں۔ مگر وہاں ایسے حالات پیش آئے کہ جنگ نہ ہوسکی اور قریش کا لشکر جنگ کے بغیر واپس چلاگیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ایک تاریخی بات کہی، وہ یہ کہ: الآن نغزوهم ولا يغزوننا، ونحن نسير اليهم (صحيح البخاري : 4110) یعنی اب ہم ان سے غزوہ کریں گے، وہ ہم سے غزوہ نہیں کریں گے، اور ہم ان کی طرف جائیں گے۔

اس حدیث میں غزوہ سے مراد جنگ نہیں ہے، بلکہ اقدام ہے جیسا کہ نَسيْرُ کے لفظ سے واضح ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب حالات میں ایسی تبدیلی آچکی ہے کہ اقدام فریق ثانی کی طرف سے نہیں ہوگا، بلکہ اب اقدام ہماری طرف سے ہوگا۔ جیسا کہ تاریخی طور پر معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے بعد کوئی جنگ کا منصوبہ نہیں بنایا، بلکہ صرف پر امن دعوت کا منصوبہ بنایا۔ اس لیے یہاں اقدام سے مراد دعوتی اقدام ہے، نہ کہ جنگی اقدام۔

یہی اسلام کا ابدی اصول ہے۔ اسلام کا اقدامی عمل صرف دعوت ہے۔ اسلام کے تمام مقاصد صرف دعوت کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔ اسلام میں اگر جنگ پیش آتی ہے تو وہ صرف ناگزیر دفاع کے موقع پر استثنائی طور پر پیش آتی ہے۔ اسلام میں اس کی ہرگز اجازت نہیں ہے کہ اہل ایمان اپنی طرف سے کوئی جارحانہ جنگ شروع کردیں۔

اسلام کا اصل نشانہ دعوت إلی اللہ ہے، اور دعوت إلی اللہ کا کام صرف پرامن طریقہ کار اور معتدل ماحول کے اندر انجام دیا جاسکتا ہے۔ اسلام کا نشانہ افراد کے ذہن کو بدلنا ہے۔ اسلام کا یہ نشانہ نہیں ہے کہ لڑ کر حکومت پر قبضہ کیا جائے ۔ اسلام کا نشانہ لوگوں کو جنت تک پہنچانا ہے، نہ کہ کچھ اور۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page