Al-Risala · March 2015 · page 33

ایک خطرناک صفت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۳۳

ایک خطرناک صفت

انسان کو استثنائی طور پر یہ صفت دی گئی ہے کہ اس کو ہر چیز میں ایک لذت (taste) کا احساس ہوتا ہے۔ اس لذت کو ابتدائی درجے میں رکھا جائے تو فطرت کے عین مطابق ہوگا، اور اگر اس لذت کو لامحدود بنا دیا جائے تو اس سے ہر قسم کی بُرائیاں وجود میں آئیں گی۔ اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز جب آدمی کی زندگی میں داخل ہوتی ہے تو ابتداءً وہ صرف لذت (taste) کے درجے میں ہوتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ عادت (habit) کی صورت اختیار کرتی ہے۔ پھر مزید ترقی کر کے وہ ایڈکشن (addiction) بن جاتی ہے۔ اس کے بعد جو اگلا مرحلہ آتا ہے، وہ ہے پوائنٹ آف نو ریٹرن (point of no return)۔ جب یہ آخری مرحلہ آجائے تو آدمی کی اصلاح عملاً ناممکن ہو جاتی ہے۔

اسی حقیقت کو قرآن میں تو بہ قریب (4:17) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ جب اس سے کوئی خطا سرزد ہو تو وہ بلا تاخیر تو بہ قریب (speedy repentance) کا طریقہ اختیار کرے، وہ فوراً اپنا محاسبہ کرے، اپنے آپ کو بدلے، اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر نو کرے۔

غلطی کرنے کے بعد آدمی کو چاہئے کہ وہ کل کا انتظار نہ کرے، بلکہ وہ آج ہی پہلی فرصت میں اس کی تلافی کرے۔ فطرت کے قانون کے مطابق یہی طریقہ صحیح طریقہ ہے۔ آدمی کو کبھی بھی تو بہ بعید کا انتظار نہیں کرنا چاہئے، اس لئے کہ غلطی کے پیچھے ہمیشہ کوئی لذت شامل رہتی ہے، مادی لذت یا ذہنی لذت۔ اگر آدمی غلطی کے بعد فوراً اس کی اصلاح نہ کرے تو اس کے بعد اس کے اندر اس لذت پسندی کی بنا پر ایک نفسیاتی عمل شروع ہو جائے گا ۔ لذت دھیرے دھیرے عادت بنے گی، اس کے بعد وہ ایڈکشن (addiction) بن جائے گی، اور پھر وہ وقت آجائے گا، جب کہ آدمی کے لئے ابتدائی حالت کی طرف واپسی ناممکن ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page