Al-Risala · March 2015 · page 32

دورِ جاہلیت یا دورِ اسلام

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۳۲

دورِ جاہلیت یا دورِ اسلام

محمد قطب (برادرِ سید قطب) مصر کے مشہور ادیب تھے۔ 4 اپریل 2014 کو ان کی وفات ہوئی، جب کہ ان کی عمر 95 سال تھی۔ ان کی ایک مشہور کتاب کا ٹائٹل یہ ہے: الجاہلية في القرن العشرين (جاہلیت بیسویں صدی میں)۔ مصنف نے اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مغربی تہذیب، بیسویں صدی کی جاہلیت ہے۔ یہ کتاب علمی اسلوب میں نہیں، بلکہ ادبی اسلوب میں ہے۔ یہ کتاب علامتی طور پر بتاتی ہے کہ موجودہ زمانے میں تمام دنیا کے مسلم اہلِ علم کا نقطۂ نظر مغربی تہذیب کے بارے میں کیا ہے۔ بلا استثنا تمام مسلمان، عرب بھی اور نان عرب بھی مغربی تہذیب کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ وہ اس کو نہ صرف مادی تہذیب بلکہ مسلم دشمن تہذیب سمجھتے ہیں۔ مغربی تہذیب کے بارے میں یہ منفی تصور سرتا سر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ یہ اسی طرح بے بنیاد ہے، جس طرح بہت سے سیکولر اہلِ علم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک تشدد پسند مذہب ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

اصل یہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک موافقِ اسلام تہذیب ہے۔ یہ اسی تائیدِ دین کا عملی ظہور ہے جس کی پیشین گوئی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی (ملاحظہ ہو، صحیح البخاري، رقم الحدیث: 3062)

موجودہ زمانے میں ضرورت تھی کہ مسلم اہلِ علم ایسی کتاب لکھیں، جس کا ٹائٹل ہو: الاسلام في القرن العشرين۔ لیکن برعکس طور پر وہ ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں جن کا ٹائٹل الجاہلية في القرن العشرين یا اس کے ہم معنی ہوتا ہے۔ دورِ جدید سے مسلم اہلِ علم کی یہی بے خبری موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو دورِ جدید کے بارے میں حدیث کے الفاظ میں بصیر زمانہ (صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 361) بنایا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page