Al-Risala · March 2015 · page 37

رحمت کا دروازہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۳۷

رحمت کا دروازہ

قالت قريش للنبي صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : ادعُ لنا رَبَّكَ أنْ يجعل لنا الصَّفا ذَهَبًا ونؤمن بك، قال : وتفعلون، قالوا: نعم، قال : فدعا فأتاهُ جبريل فقال: إنَّ رَبَّكَ يقرأ عليك السلام ويقولُ: إن شئتَ أصبح لهم الصَّفا ذهبًا فمن كفر بعد ذلك منهم عذَّبتُه عذَّابًا لا أعذِّبُه أحدًا من العالمين وإن شئتَ فتحتُ لهم باب التوبة والرحمة ، قال : بل باب التوبة والرحمة (مسند احمد: 2166) - قريش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب سے دعا کیجیے وہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا پہاڑ بنادے، پھر ہم آپ پر ایمان لائیں گے، آپ نے کہا: کیا تم ایسا کرو گے، انھوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر رسول اللہ نے دعا کی تو جبرئیل آپ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو سلام بھیجا ہے، اور یہ کہا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو وہ صفا پہاڑ کو سونے کا پہاڑ بنا دے گا، مگر اس کے بعد ان میں سے جو انکار کرے گا۔ اس کو میں ایسا عذاب دوں گا جو دنیا والوں میں کسی کو نہ دیا ہوگا اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں تو بہ اور رحمت کا دروازہ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر لوگوں پر فراوانی کے دروازے کھول دئے جائیں تو اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غفلت اور سرکشی پیدا ہوگی، وہ ایمان سے دور ہو کر مزید سزا کے مستحق بن جائیں گے۔ ایمان کے لئے اصل اہمیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر عجز کی نفسیات پیدا ہو۔ عجز کی نفسیات آدمی کو ایمان کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کے برعکس، فراوانی (affluence) میں آدمی کے اندر غفلت اور سرکشی پیدا ہوتی ہے، جو اس کو خدا سے مزید دور کر دیتی ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے اہل مکہ کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ مشکل حالات کا سامنا کریں، اس سے ان کے اندر اللہ کی طرف رجوع کی کیفیت پیدا ہوگی، ان کے اندر تلاش حق کی اسپرٹ بیدار ہوگی۔ وہ اپنے عجز کو دریافت کریں گے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سچائی کو قبول کر لیں گے۔ یہ صرف قریش کی بات نہیں بلکہ وہ تمام انسانوں کی بات ہے۔ ہدایت کا یہی اصول قریش کے لئے بھی تھا اور دوسرے تمام انسانوں کے لئے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page