Al-Risala · March 2015 · page 38

زیادہ بڑی فتح

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۳۸

زیادہ بڑی فتح

قرآن میں فتح (victory) کا لفظ اس معنی میں دو سورتوں میں آیا ہے، سورہ النصر اور سورہ الفتح۔ سورہ النصر میں فتح کا لفظ سیاسی فتح کے معنی میں ہے، یعنی مکہ کی فتح۔ لیکن سورہ الفتح میں یہ لفظ سیاسی فتح کے معنی میں نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سورہ معاہدہ حدیبیہ کے وقت اتری تھی، اور معاہدہ حدیبیہ میں رسول اور اصحابِ رسول کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ حدیبیہ کا سفر رسول اور اصحاب رسول نے اس لئے کیا تھا کہ مکہ جا کر عمرہ ادا کریں، لیکن اس وقت مکہ پر قریش کا غلبہ تھا۔ انھوں نے آپ کو اجازت نہ دی اور آپ کو اور آپ کے اصحاب کو عمرہ کی ادائیگی کے بغیر درمیان سے مدینہ کی طرف واپس ہونا پڑا تھا۔ سورہ النصر میں صرف فتح کا لفظ آیا ہے، جب کہ سورہ الفتح میں فتح مبین (open victory) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا سورہ الفتح میں جس فتح کا ذکر ہے، وہ اللہ کی نظر میں رسول اور اصحاب کے لئے زیادہ بڑی فتح تھی۔ یہ زیادہ بڑی فتح کیا تھی، یقیناً وہ کوئی ایسی چیز تھی، جو سیاسی فتح (political victory) کے علاوہ تھی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح مبین مواقع دعوت کے فتح کے معنی میں تھی۔ فتح مکہ اگر سیاسی فتح تھی تو معاہدہ حدیبیہ کے ذریعہ جو فتح حاصل ہوئی اس کو پرامن فتح (peaceful victory) کہا جا سکتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے ذریعہ دونوں فریق اس کے پابند ہو گئے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی لڑائی نہیں کریں گے۔ معاہدہ حدیبیہ در اصل امن کا معاہدہ تھا:

Makkah was victory in terms of territory, Hudaybiyah was victory in terms of opportunity. رسول اور اصحاب رسول کو یہ موقع مل گیا کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر کھلے طور پر دعوت الی اللہ کا کام کر سکیں ۔ دوسری فتوحات میں اگر سیاسی فتوحات حاصل ہوتی ہیں تو معاہدہ حدیبیہ نے یہ امکان کھول دیا کہ دعوت کے ذریعہ انسانوں کو فتح کیا جا سکے۔ گویا اللہ کی نظر میں ملک کی فتح سے زیادہ بڑی چیز انسان پر فتح حاصل کرنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page