Al-Risala · March 2015 · page 39

آداب مجلس

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۳۹

آداب مجلس

ایک مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ایک صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے کوئی بات پوچھی۔ اس کے بعد مجلس کا ہر آدمی کچھ نہ کچھ بولنے لگا۔ میں نے اس پر سخت گرفت کی۔ میں نے کہا کہ یہ طریقہ آداب مجلس کے بالکل خلاف ہے۔ جب کوئی بات ایک متعین شخص سے پوچھی جائے تو اسی شخص کو اس کا جواب دینا چاہئے۔ بقیہ لوگوں کو خاموشی کے ساتھ صرف سننا چاہئے ۔

ایک صاحب نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ میں نے کہا کہ یہ سادہ طور پر صرف غلطی کی بات نہیں، یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ لوگ مجلسی آداب کے بارے میں باشعور نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ آپ لوگ سنجیدگی کے ساتھ یہ عہد کریں کہ اب آپ لوگ اس انداز پر اپنی تربیت کریں گے کہ آپ ہر موقع پر آداب کلام کو سمجھیں اور اس کے مطابق ایسا کریں کہ بولنے کے موقع پر بولیں اور چپ رہنے کے موقع پر خاموش رہیں۔

قرآن کی سورہ الحجرات میں یہ آیت آئی ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالَكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (49:2) یعنی اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

بظاہر اس آیت میں رسول اور اصحاب رسول کا ذکر ہے۔ لیکن قرآن کی کوئی آیت وقتی نہیں ہے، بلکہ ہر آیت میں تمام اہل ایمان کو ابدی تعلیم دی گئی ہے۔ اس اعتبار سے غور کیجئے تو قرآن کی اس آیت میں عمومی حکم کو بتایا گیا ہے، اور وہ مجلس کے آداب کا حکم ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی کسی مجلس میں کئی آدمی بیٹھے ہوئے ہوں تو وہاں ہر ایک کو ڈسپلن کے ساتھ بولنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page