Al-Risala · March 2015 · page 43

کیلنڈر کی تاریخ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۴۳

کیلنڈر کی تاریخ

ایک دانشور کا قول ہے_ جس دن آپ بھر پور زندگی جئے، وہی آپ کا دن تھا، باقی صرف کلینڈر کی تاریخ تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے دو طریقے ہیں، ایک طریقہ دن گزارنا، اور دوسرا طریقہ ہے دن کو استعمال (avail) کرنا۔ جس نے دن گزارنے کے لئے زندگی گزاری، اس نے اپنی عمر کو ضائع کیا، اور جو شخص دن کو بھر پور طور پر استعمال کرے، اسی کی زندگی، زندگی ہے، وہی وہ شخص ہے جس نے زندگی کو سمجھا، اور اس کا فائدہ اٹھایا۔

ہر بار جب ایک نیا دن آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ کچھ مواقع (opportunities) کو لے کر آتا ہے۔ یہ مواقع بلند آواز سے نہیں بولتے، مواقع کی زبان ہمیشہ خاموشی کی زبان ہوتی ہے۔ یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ مواقع کو پہچاننے، اور حالات کے مطابق منصوبہ بنا کر ان سے فائدہ اٹھائے۔

مواقع پہچانے کی کئی شرطیں ہیں۔ مثلاً یہ کہ کون سا موقع میرے لئے ہے، اور کون سا موقع میرے لئے نہیں ہے، کسی موقع کو پرامن طور پر حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے، مواقع کو استعمال کرنے کے لئے حقیقت پسندی کی اہمیت کیا ہے، اپنا مقصد حاصل کرتے ہوئے مجھے کس طرح اپنی حد کے اندر رہنا ہے، مجھے دوسرے کی حد کے اندر داخل نہیں ہونا ہے، وغیرہ۔ اپنی زندگی جینے کے لئے ضروری ہے کہ آپ یہ جانیں کہ دنیا میں صرف آپ نہیں ہیں، یہاں دوسرے لوگ بھی ہیں، جن کو اپنی زندگی گزارنا ہے۔ ایک شخص اگر اپنی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ دوسروں سے ٹکراؤ نہ کرے، وہ دوسروں سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر شروع کرے_ جس طرح آپ کا کچھ انٹرسٹ ہے، اسی طرح دوسروں کا بھی کچھ انٹرسٹ ہے۔ کامیاب وہ ہے جو دوسروں کے انٹرسٹ سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنا مقصد حیات حاصل کرے_

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page