قرآنی انقلاب
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۴
قرآنی انقلاب
قرآن سادہ معنوں میں ایک مذہبی کتاب نہیں۔ قرآن کے نزول کا مقصد یہ تھا کہ تاریخ میں ایک بڑا انقلاب لایا جائے۔ اسی بات کو قرآن میں لِیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (9:33) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ انقلاب اچانک نہیں آ سکتا تھا۔ اس کی صورت صرف یہ تھی کہ تاریخ میں ایک طاقت وعمل (strong process) جاری کیا جائے۔ اس عمل کو اس طرح جاری رکھنا تھا کہ انسانی آزادی بھی باقی رہے، اور یہ عمل بھی تاریخ میں سفر کرتے ہوئے اپنے نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ جائے۔ اللہ کے منصوبے کے تحت یہ عمل ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں شروع ہوا، اور بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ موجودہ زمانے میں جس ظاہر کو عام طور پر مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی عمل کی تکمیل کا دوسرا نام ہے۔ اس لحاظ سے اس تہذیب کو زیادہ درست طور پر خدائی تہذیب (Divine Civilization) کہنا چاہئے۔
نظام فطرت
خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق انسان کو موجودہ زمین (planet earth) پر ابتلا (test) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ فرشتوں کی نگرانی میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر رہا ہے، اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ اسی ریکارڈ کے مطابق ہر فرد کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مگر انسانوں کی اکثریت نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ اس غلط استعمال کی سب سے زیادہ نامطلوب صورت یہ تھی کہ کچھ انسانوں نے پوری دنیا میں اجارہ داری (monopoly) کا نظام قائم کر دیا۔ سیاسی اجارہ داری، اقتصادی اجارہ داری، مذہبی اجارہ داری، خاندانی اجارہ داری، وغیرہ۔ اجارہ داری کے اس نظام کی بنا پر انسانی آزادی کا وہ ماحول باقی نہ رہا جو مطلوب امتحان کے لئے ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اجارہ داری کے اس نظام کو ختم کر کے دنیا میں فطری آزادی کا ماحول واپس لایا جائے۔ قرآن کے ذریعہ یہی انقلاب مطلوب تھا، جس
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues