سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۵
کو ایک لفظ میں ختم اجارہ داری (de-monopolization) کہا جا سکتا ہے۔
سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ
یہ غیر فطری نظام اصلاً سیاسی اجارہ داری کے زور پر قائم تھا۔ اس لیے یہ مطلوب تھا کہ تاریخ میں ایک ایسا عمل جاری کیا جائے، جس کے نتیجہ میں سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ ہو جائے، اور نتیجتاً دوسری تمام اجارہ داریاں بھی ختم ہو جائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کے ذریعہ یہ عمل شروع ہوا۔ اس عمل کے دوران سب سے پہلے عرب میں قبائلی اجارہ داری (tribal monopoly) کا دور ختم کیا گیا۔ اس کے بعد اصحاب رسول کے ذریعے ساسانی سلطنت اور رومی سلطنت کا خاتمہ کیا گیا۔ یہ دنیا سے سیاسی اجارہ داری ختم کرنے کا آغاز تھا۔ اس کے بعد جب مسلمان زمین کے مختلف حصوں میں پھیلے تو انھوں نے مختلف مقامات پر قائم شدہ چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو ختم کر کے ہمیشہ کے لیے سیاسی اجارہ داری کے دور کا خاتمہ کر دیا۔ تاہم مسلمان اس تاریخی عمل میں صرف بقدر نصف اپنا حصہ ادا کر سکے۔ سابقہ شاکلہ (previous mindset) کے تحت مسلمانوں نے یہ کیا کہ خلافت کے نام سے دوبارہ خاندانی نظام حکومت (dynasty) کو قائم کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان مطلوب عمل میں صرف جزئی کردار ادا کر سکے۔ کروسیڈس کا دور بارھویں اور تیرھویں صدی میں مسلم حکومتوں اور مسیحی حکومتوں کے درمیان جنگ پیش آئی۔ اس جنگ میں بظاہر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی، لیکن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے کروسیڈس کا یہ واقعہ، مذکورہ تاریخی عمل میں ایک شفٹ (shift) کا ذریعہ بن گیا۔ اس کے بعد یورپ میں ایک نیا عمل شروع ہوا، جس کو بعض مورخین نے روحانی کروسیڈس (spiritual crusades) کا نام دیا ہے، یعنی غیر سیاسی کروسیڈس۔ کروسیڈس سے پہلے مذکورہ عمل مسلم اقوام کے ذریعہ جاری ہوا۔ مسلمان اس عمل کو سیاسی سطح پر انجام دے رہے تھے۔ مگر یہ عمل اپنے مطلوب خاتمہ تک نہیں پہنچا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ اس عمل کی ذمہ داری مغربی اقوام کو سونپی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اور مغربی اقوام نے مذکورہ عمل کو اس کی آخری حد تک پہنچایا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ تدریجی طور پر وہ دور ختم ہو گیا جس کو
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues