Al-Risala · April 2015 · page 6

سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۶

اوپر ہم نے اجارہ داری کے دور کہا ہے۔

شفٹ کا یہ واقعہ خدائی منصوبے کے تحت ہوا۔ چنانچہ حدیث میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ان اللہ لیؤید هذا الدين بالرجل الفاجر (البخاري: 3062) یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد فاجر (secular) انسان کے ذریعے کرے گا۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: لیؤیدن اللہ هذا الدين بقوم لاخلاق لهم (صحیح ابن حبان: 4517) یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد ایسی قوم کے ذریعے کرے گا، جن کا (دین میں) کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: إن الله ليؤيد هذا الدين برجال ما هم من أهله (مجمع الزوائد: 9567) یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہل (دین) میں سے نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں بظاہر غیر مسلم اقوام سے مراد مغربی اقوام ہیں۔ کروسیڈس کی لڑائیوں میں مغربی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی۔ یہ شکست خدائی منصوبے کے مطابق تھی۔ اس شکست نے ایک نیا جبر (compulsion) پیدا کیا۔ مغربی قو میں اس زمانے میں مسلم قوموں کی حریف بن گئی تھیں، لیکن کروسیڈس کی لمبی لڑائی میں شکست کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ مغربی قومیں فوجی میدان میں لڑ کر مسلمانوں پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتیں۔ اس صورت حال نے مغربی قوموں کو مجبور کیا کہ وہ غیر فوجی میدان میں اپنا عمل جاری کریں۔ یہی وہ عمل ہے جس کو نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ مغربی یورپ میں یہ عمل چودھویں صدی عیسوی سے لے کر سولھویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ یہی وہ دور ہے جس زمانے میں یورپ میں پرنٹنگ پریس ایجاد کیا گیا۔ اس کے بعد یورپ میں مزید ترقیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ ترقی یافتہ زمانہ آیا جس کو مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ یہ تہذیب پوری انسانی تاریخ کا ایک اعتبار سے نقطہ عروج ہے۔ مغربی تہذیب کے زمانے میں وہ تمام واقعات پیش آئے جو قرآنی اسکیم کے تحت مطلوب تھے۔ اس لیے زیادہ درست طور پر اس کو خدائی تہذیب (Divine Civilization) کہنا چاہئے۔ مغربی تہذیب نے یہ کیا کہ اجارہ داری کا دور ختم کر دیا، اس طرح انسانی آزادی کا وہ مطلوب ماحول پیدا ہو گیا جو خدا کے نقشہ تخلیق کے مطابق درکار تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page