Al-Risala · April 2015 · page 8

امن کا دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۸

امن کا دور

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں : عن خباب بن الأرت شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة، فقلنا: ألا تستنصر لنا، ألا تدعو لنا؟ فقال: قد كان من قبلكم، يؤخذ الرجل فيحفر له في الأرض، فيجعل فيها، فيجاء بالمنشار فيوضع على رأسه فيجعل على نصفين، ويمشط بأمشاط الحديد ما دون لحمه وعظمه، فما يصده ذلك عن دينه ـ والله لیُتَمنَّ هذا الأمر، حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضر موت، لا يخاف إلا الله والذئب على غنمه، ولكنكم تستعجلون (صحیح البخاری: 6943)

یعنی حضرت خباب کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ۔ اور اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں اپنی ایک چادر کا تکیہ لگائے ہوئے لیٹے تھے۔ ہم نے کہا کہ کیا آپ ہمارے لیے مدد نہیں مانگتے ، کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا : تم سے پہلے جو لوگ تھے ان کا حال یہ تھا کہ ایک شخص کو پکڑا جاتا، پھر اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا، پھر اس کو اس میں گاڑ دیا جاتا، پھر آرالا یا جاتا، پھر اس کو آدمی کے سر پر رکھا جاتا، پھر آرا چلا کر اس آدمی کے جسم کے دو ٹکڑے کر دئے جاتے۔ لوہے کی کنگھی سے، اس میں کنگھی کی جاتی یہاں تک کہ وہ اس کے گوشت اور ہڈی تک پہنچ جاتا ، مگر یہ چیز آدمی کو اس کے دین سے نہ روکتی۔ قسم اللہ کی، اللہ اس امر کو ضرور پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ یہ حال ہوگا کہ ایک مسافر صنعاء سے حضر موت تک جائے گا، اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہ ہوگا۔ اور اس کو اپنی بکریوں پر صرف بھیڑیے کا ڈر ہوگا، مگر تم لوگ جلدی کر رہے ہو۔

اس حدیث میں دراصل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ایک اہم پہلو کو بتایا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کے مشن کا ایک پہلو یہ تھا کہ اس دنیا میں ایسا انقلاب لایا جائے، جس کے نتیجے میں دنیا میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page