امن کا دور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۹
مذہبی امن قائم ہو جائے۔ ہزاروں سال سے جاری شدہ مذہبی تشدد (religious persecution) کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔ تاہم آپ کے مشن کا یہ نتیجہ ایک تدریجی عمل کے ذریعہ مستقبل میں ظاہر ہونے والا تھا، نہ کہ فوری طور پر خود زمانہ رسول میں۔
جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ عمل شروع ہوا۔ پہلے قبائلی سطح پر مذہبی تشدد کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد ایک تدریجی عمل کے ذریعہ حکومتی سطح پر اس کا عملاً خاتمہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں اقوام متحدہ (UNO) قائم ہوئی ۔ اس کے تحت دنیا کی تمام قوموں کے نمائندوں نے بین اقوامی طور پر یہ عہد کیا کہ ان کے ملکوں میں مذہب کی بنیاد پر کسی کے خلاف تشدد نہیں کیا جائے گا۔
تشدد (violence) ایک ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے، تشدد کرنے والا اور تشدد کا شکار ہونے والا۔ قدیم زمانے میں مذہب، حکومت کا ایک شعبہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ جائز مذہب وہی ہے جو سرکاری مذہب (official religion) ہو۔ کوئی شخص سرکاری مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرے تو یہ ایک ایسا جرم تھا، جو حکومت سے بغاوت کے ہم معنی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں اس شخص کو تشدد کا شکار ہونا پڑتا تھا، جو حکومت کے اختیار کردہ مذہب کے سوا کسی اور مذہب کو اپنا مذہب بنائے۔
قدیم زمانے میں ساری دنیا میں خاندانی حکومتوں کا نظام قائم تھا۔ یہ لوگ اپنی حکومت کے استحکام کے لیے، کسی اختلاف کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ یہ صورت حال اللہ کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف تھی۔
اللہ کی منشا یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہو، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کس نے صحیح طریقہ اختیار کیا اور کس نے غلط طریقہ اختیار کیا۔ اس لیے رسول اور رسول کے ماننے والوں کو یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ مذہبی تشدد پر مبنی اس نظام کو ختم کر دو (8:39)، تاکہ انسانوں کے درمیان وہ حالت فطری قائم ہو جائے جو خالق کو مطلوب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues