انصاف کا طریقہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۵
انصاف کا طریقہ
قرآن کی سورہ الحدید کی ایک آیت یہ ہے: لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (57:25) یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ اتاری کتاب اور ترازو، تا کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق کے نقشہ کے مطابق انصاف پیروی کرنے کی چیز ہے، نہ کہ نافذ کرنے کی چیز:
Justice is a subject of following rather than a subject of implementation. اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے مکمل آزادی عطا کی ہے۔ انسان کوئی کام اسی وقت کرتا ہے جب کہ وہ خود اس کو کرنا چاہتا ہو۔ جس کام کے لیے آدمی کے اندر محرک (incentive) موجود نہ ہو، اس کو قانونی حکم یا سیاسی طاقت کے ذریعہ اس کے درمیان نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بلا شبہ ایک مطلوب چیز ہے کہ لوگ اپنے قول وعمل میں انصاف (justice) کی پیروی کریں۔ وہی سماج ایک بہتر سماج ہے جس کے افراد کے اندر یہ اسپرٹ زندہ ہو۔ لیکن یہ اسپرٹ تعلیم و تربیت کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے، نہ کہ سیاسی طاقت کے ذریعہ۔ اس لیے قرآن کا سارا زور اس پر ہے کہ افراد کے اندر انصاف کا شعور پیدا کیا جائے، افراد کے اندر انصاف پر عمل کرنے کا داعیہ (incentive) پیدا کیا جائے۔ انصاف کو اگر افراد کی تعلیم و تربیت کا موضوع بنایا جائے تو ایسی کوشش ہمیشہ مطلوب نتیجہ تک پہنچے گی۔ لیکن اگر انصاف کو طاقت کے زور پر نفاذ (implementation) کا موضوع بنایا جائے تو اس کے نتیجہ میں جو چیز وجود میں آئے گی، وہ انصاف نہ ہوگا بلکہ صرف ظلم و فساد ہوگا۔ اس دنیا میں کوئی چیز صرف اس وقت درست طور پر حاصل کی جاسکتی ہے، جب اس کو خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کوئی دوسرا طریقہ اس دنیا میں نتیجہ خیز ہونے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues