خدا کی نشانیاں
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۴
خدا کی نشانیاں
قرآن میں خالق کے ایک منصوبہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا سَنُرِيهِمُ آيَاتِنَا فِي قرآن میں خالق کے ایک منصوبہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سنُرِيهِمْ ايَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں وسیع پیمانے پر خدائی صداقت کی نشانیاں (signs) موجود تھیں ، لیکن بالقوہ (potential) حالت میں پائی جاتی تھیں۔ خدا کو یہ مطلوب تھا کہ اس بالقوہ کو بالفعل (actual) بنایا جائے ۔ جب ایسا ہوگا تو قرآن کا پیغام سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ پیغام بن جائے گا۔
مذکورہ آیت میں اس واقعہ کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ مگر یہ اسلوب کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں کچھ ایسے افراد اٹھیں گے جو اس امکان کو واقعہ بنائیں گے ، اور اس طرح یہ ہوگا کہ قرآن کی آئیڈیالوجی صرف ایک نظری صداقت نہ رہے گی بلکہ وہ علمی طور پر ایک ثابت شدہ ہو گا کہ قرآن کی آئیڈیالوجی صرف ایک نظری صداقت نہ رہے گی بلکہ وہ صداقت (established fact) بن جائے گی۔
فطرت (nature) کے اندر چھپے ہوئے اس امکان کو واقعہ بنا۔
علمی طور پر ایک ثابت شدہ نے کا کام انیسویں صدی فطرت (nature) کے اندر چھپے ہوئے اس امکان کو واقعہ بنانے کا کام اکیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مکمل طور پر انجام پاچکا ہے۔ یہ واقعہ مغرب کے سائنس دانوں نے اپنی تحقیقات کے ذریعہ انجام دیا ہے۔ قرآن میں جو چیزیں بطور اشارہ بیان کی گئی تھیں، وہ اب معلوم حقیقت بن چکی ہیں۔ اب عالَمِ اصغر (micro world) اور عالَمِ اکبر (macro world) دونوں کے اندر چھپی ہوئی نشانیاں پوری طرح انسان کے علم میں آچکی ہیں۔ دورِ جدید کا یہی وہ واقعہ ہے جس کی پیشگی خبر قرآن میں کی گئی تھی ۔ یہ سائنسی واقعہ ایک تائیدِ دین کا واقعہ ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے حق میں یہ تائیدی واقعہ زیادہ تر سیکولر اہلِ علم کے ذریعہ انجام پائے گا۔ فارہا ہے نہ رہیں گے اس میں، یہ رُدُّ الشَّمْسِ کا واقعہ ہے ( صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062 )
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues