اجتماعی نظام، اصلاح افراد
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۱۴
اصل یہ ہے کہ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اس دنیا میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے۔ یہ آزادی اتنی زیادہ حتمی ہے کہ اس کو منسوخ (abolish) کرنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ اس لئے سماجی نظم کے معاملے میں صرف عملیت (pragmatism) کا طریقہ چل سکتا ہے، معیار (idealism) کا طریقہ سماج کے معاملے میں قابلِ عمل نہیں۔ اگر سماج کے معاملے میں آئیڈیلزم کو چلایا جائے تو نتیجہ کے اعتبار سے اس کا انجام بد نظمی (anarchy) ہوگا، نہ کہ آئیڈیلزم۔
اس معاملے کا قابلِ عمل حل یہ ہے کہ سماج کے معاملے میں جمہوریت کا طریقہ اختیار کیا جائے، یعنی مقرر مدت پر آزادانہ اور منصفانہ الیکشن (free and fair election) ہو، اور پھر منتخب افراد کے ذریعہ محدود مدت کے لیے ایک سماجی نظم قائم کیا جائے۔ یہ نظم سماج یا عوام کی رضامندی کی بنیاد پر مقرر مدت (term) تک چلایا جائے گا، نہ کہ کسی معیاری اصول کی بنیاد پر۔ مقرر مدت پوری ہونے پر دوبارہ الیکشن ہو، اور منتخب افراد دوبارہ محدود مدت کے لئے نظم کو سنبھالے۔ اجتماعی نظم کے معاملے میں یہی صورتِ قابلِ عمل ہے، اور یہی صورت خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہے۔
افراد کے معاملے میں جو کچھ مطلوب ہے، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا. فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا. قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا. وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّهَا. (93:7-10) اور نفسِ انسانی اور جیسا کہ اس کو ٹھیک کیا، پس اس کو سمجھ دی اس کی بدی اور نیکی کی۔ کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا اور نا مراد ہوا جس نے اس کو آلودہ کیا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیقی نقشہ کے مطابق، فرد کی اصلاح، ہر شخص کا اپنا ذاتی معاملہ ہے۔ ہر شخص کو خود یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی فطرت کو زندہ کرے، اور خالق کے مطلوب نقشے کے مطابق، اپنی شخصیت کی تعمیر کرے۔ اسی شخصیت کو قرآن میں مزکّی شخصیت (purified personality) کہا گیا ہے۔ یہ مزکّی شخص ایک خود تعمیر کردہ انسان (self-made man) ہوتا ہے۔ یہی وہ انسان ہے، جس پر دنیا کی زندگی میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں، اور یہی وہ انسان ہے جس کو آخرت میں جنت کے ابدی باغوں میں داخل کیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues