Al-Risala · April 2015 · page 13

اجتماعی نظام، اصلاح افراد

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۱۳

اجتماعی نظام، اصلاح افراد

اسلام میں اجتماعی نظام کا اصول الگ ہے، اور افراد کی اصلاح کا اصول الگ۔ یہی طریقہ خالق کے قائم کردہ فطری نظام کے مطابق ہے۔ اگر ان دونوں پہلوؤں کو ایک کر دیا جائے تو دونوں میں سے کسی کی اصلاح کا حق ادا نہیں ہوگا۔ جب کہ دونوں پہلوؤں کا نظم الگ کرنے کی صورت میں دونوں کا حق ادا کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ فرد کی اصلاح کا معاملہ آخرت سے جڑا ہوا ہے۔ آخرت میں ہر فرد سے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر الگ معاملہ کیا جائے گا۔ اس لیے اسلامی نقشے میں فرد کے معاملے کو اس کے ذاتی فیصلے پر منحصر قرار دیا گیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (29: اس کا مطلب یہ ہے کہ فرد (individual) کے معاملے میں اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ پرامن انداز میں حق کی وضاحت کی جاتی رہے۔ دلائل کے ذریعہ حق کو لوگوں کے لیے قابل قبول اور قابل فہم (understandable) بنایا جاتا رہے۔ یہ فرد کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرتا ہے یا وہ اس کا انکار کر دیتا ہے۔

جہاں تک مجتمع (society) کی بات ہے، اس کا اصول قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:39) یعنی اور ان کا نظام شوریٰ پر ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ اگر انگریزی زبان میں کیا جائے تو وہ یہ ہوگا :

And whose affairs are decided by mutual consultation. اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے مطابق سماج کا نظام شوریٰ پر مبنی ہونا چاہئے، اسی طریقہ پر جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ یعنی اجتماعی معاملات میں سماج کے افراد سے مشورہ کیا جائے، اور پھر یا تو اتفاق رائے کی بنیاد پر یا کثرت رائے کی بنیاد پر اجتماعی معاملات کا فیصلہ کیا جائے۔ یہی جمہوریت کی روح ہے، اور یہی شوریٰ کا مقصود بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page