Al-Risala · April 2015 · page 16

فہمِ قرآن

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۱۶

اس معاملے کی ایک مثال قرآن کی سورہ یوسف ہے۔ اس قصہ کو اللہ تعالیٰ نے احسن القصص (best story) کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سورہ میں کوئی غیر معمولی بات بتائی گئی ہے۔ عربی زبان اور دوسری زبانوں میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں، ان میں سورہ یوسف کے بارے میں کافی بحث موجود ہے۔ لیکن یوسف کا قصہ احسن القصص کیوں ہے، اس پر کسی تفسیر میں کوئی واضح رہنمائی نہیں ملتی۔ عقل کا تقاضا ہے کہ جب یوسف کا قصہ احسن القصص ہے تو اس کا احسن ہونا صرف گزرے ہوئے ماضی کے اعتبار سے نہیں ہو سکتا، ضروری ہے کہ زمانہ حاضر کے اعتبار سے اس میں کوئی احسن رہنمائی موجود ہو۔

اس پہلو سے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورہ میں احسن القصص کا لفظ حقیقتاً حسن منہج (best method) کے معنی میں ہے، یعنی طریقہ کار کا بہترین نمونہ ۔ حضرت یوسف کا قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں آیا ہے۔ دونوں کے مطالعے سے جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں بادشاہت کا نظام تھا۔ اس زمانے میں زراعت کسی حکومت کا سب سے بڑا شعبہ ہوتا تھا۔ اس وقت کا مصری بادشاہ اس پر راضی ہو گیا کہ پولیٹیکل اتھارٹی کے اعتبار سے وہ تخت پر رہے، اور حکومت کا نظام حضرت یوسف کے سپرد کر دے۔ قرآن میں یہ بات اس طرح کہی گئی ہے کہ مصر میں دین ملک (law of the land) بدستور بادشاہ کا ہو، اور خزائن ارض (ملک مصر کا زرعی نظام) حضرت یوسف کے ہاتھ میں رہے۔ اس معاملے کو بائبل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ ترہوں گا۔

Only in regard to the throne will I be greater than you. (Genesis: 41/40)

حضرت یوسف کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس زمانے کا مصری بادشاہ اس پر راضی ہو گیا کہ قانونی اعتبار سے پولیٹیکل اتھارٹی (political authority) کا درجہ اس کو حاصل ہو، اور نان پولیٹیکل (non-political) دائرے میں زمین کا انتظام حضرت یوسف کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page