Al-Risala · April 2015 · page 17

Mob. 09755300295,07556542231

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۱۷

ہاتھ میں رہے۔ یہ گویا پولیٹیکل سیٹلمنٹ (political settlement) کا ایک معاملہ تھا، جس میں تخت پر تو بادشاہ بیٹھا ہوا تھا، لیکن جہاں تک ملکی انتظام کا معاملہ ہے، وہ عملاً حضرت یوسف کے ہاتھ میں دے دیا گیا (12:56)۔

حضرت یوسف کو مصر میں یہ مواقع ایک بادشاہ کے ذاتی مزاج کی بنا پر شخصی طور پر حاصل ہوئے تھے۔ اب تطبیقی تفسیر کے اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانے میں یہ مواقع خود زمانی تبدیلی کی بنا پر تمام اہل ایمان کو عمومی طور پر حاصل ہو گئے ہیں۔ جدید جمہوری تصور کے مطابق کوئی حاكم (ruler) صرف چند سال کے لئے ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں حکومت کی حیثیت اصولاً انتظام (administration) کے ادارے کی ہوتی ہے۔ انتظامی دائرے کے باہر کے تمام شعبے بشمول مذہبی تبلیغ، آزاد شعبے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر فرد کو حق ہے کہ وہ تمام غیر حکومتی شعبوں میں جس طرح چاہے عمل کرے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے پرامن طریقہ (peaceful method) اختیار کرے، وہ کسی کے خلاف ٹکراؤ کا معاملہ نہ کرے، نہ عام شہری کے خلاف اور نہ حکومت کے خلاف۔

گویا کہ زمانی تبدیلی کے نتیجے میں اب احسن القصص کی حیثیت ایک عالمی اصول کی ہوگئی ہے۔ یہ اس سورہ کی تطبیقی تفسیر ہے۔ اس تفسیر کی روشنی میں سورہ یوسف آج کے انسان کے لئے ایک رہنما سورہ بن جاتی ہے۔ یہی طریقہ پورے قرآن کے لئے مطلوب ہے۔ اس طرح قرآن آج کے انسان کے لئے ایک رہنما کتاب بن جاتا ہے جب کہ مذکورہ تفسیری اصولوں کی روشنی میں قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو قرآن ماضی کی ایک گزری ہوئی کہانی کی مانند نظر آئے گا۔ بھوپال میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم فرمائیں: Mr. Bilaluddin Al-Quran Mission 48, Aamwali Masjid, Jahangirabad, Bhopal (M.P.)

Mob. 09755300295,07556542231

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page