تفسیر قرآن کا ایک اصول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۱۹
کی حیثیت جرم کی ہے۔
قرآن میں قتال کا جو حکم دیا گیا تھا، وہ کوئی ابدی حکم نہیں تھا۔ اس کا مقصد کسی وقتی نظام کا خاتمہ نہ تھا، بلکہ اس کا مقصد اس عمومی دور کا خاتمہ تھا، جس کے تحت لوگوں کو عمل کی آزادی حاصل نہ تھی۔ جب لوگوں کو عمل کی آزادی حاصل ہو جائے تو قتال کا حکم بھی ایک غیر متعلق (irrelevant) حکم بن جائے گا۔
یہی وہ بات ہے، جو قرآن کی اس آیت میں کہی گئی ہے: وَقْتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ ٱللَّہَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ۔ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ ان کے عمل کو دیکھنے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد قدیم زمانے کا وہ دور حکمرانی ہے، جس کو مطلق العنان حکومت (despotism) کہا جاتا ہے۔ یہ نظام خدا کی اسکیم کے خلاف تھا۔ یہ نظام چونکہ فوجی طاقت کے زور پر قائم تھا، اس لئے اس کو فوجی طاقت ہی سے ختم کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ اس نظام کو بذریعہ قتال ختم کردو۔ آیت میں ويكون الدين كله لله کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں حالت فطری قائم ہو جائے، مصنوعی رکاوٹ کا خاتمہ ہو جائے، اور انسان کھلے ماحول میں آزادی کے ساتھ اپنا عمل کر سکے۔ لمبے تاریخی عمل کے بعد، یہ مطلوب نظام اب ساری دنیا میں عملاً قائم ہو چکا ہے۔ اگر آدمی تشدد (violence) کا ارتکاب نہ کرے تو وہ کہیں بھی ضعیف نہیں، اس کے لئے کہیں رکاوٹ نہیں۔ یہ دور جدید کا تقاضا ہے۔ نیا دور آزادی کا دور ہے، اور تشدد آزادی کا نقیض (opposite) ہے۔ ایک شخص یا گروہ کا تشدد، دوسرے شخص یا گروہ کی آزادی کو منسوخ (abolish) کرنے کے ہم معنی ہے۔ جس طرح توحید کے کلچر میں شرک امر ممنوع بن جاتا ہے، اسی طرح آزادی کے کلچر میں تشدد کی حیثیت ایک امر ممنوع کی ہے۔ تشدد کے سوا کوئی اور چیز نہیں جو موجودہ دور آزادی میں انسان کو اس کی آزادی سے محروم کرنے والی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues