Al-Risala · April 2015 · page 18

تفسیر قرآن کا ایک اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸

تفسیر قرآن کا ایک اصول

قرآن میں اہل ایمان کے دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ جن کے لیے مُسْتَضْعَفِیْن (4:97) کا لفظ آیا ہے، یعنی کمزور (the weak)- ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن میں کہا گیا ہے کہ وہ ہجرت کر کے دوسرے پر امن مقامات پر چلے جائیں۔ اہل ایمان کا دوسرا گروہ وہ ہے، جو صاحبِ قوت ہو۔ ایسے لوگوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم ائمہ کفر (9:12) سے جنگ کرو، اور ان کے اوپر غلبہ حاصل کرو۔ امام ابن تیمیہ (وفات: 728ھ) نے ان آیتوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو مسلمان کمزور حالت میں ہوں، وہ صبر اور صفح کے اصول پر عمل کریں۔ اور دوسرا مسلم گروہ، جو صاحب قوت ہو اس کو چاہئے کہ وہ قتال کر کے مخالفین کو زیر کرے (الصارم المسلول: 414-2/412)۔ یہی تقریباً تمام مسلم علماء کا مسلک ہے۔ عام طور پر مسلمان اسی طرزِ فکر کو اسلامی طرزِ فکر سمجھتے ہیں۔ مگر یہ طرزِ فکر اسلامی بصیرت کے مطابق نہیں۔ یہ طرزِ فکر آج ایک غیر متعلق طرزِ فکر بن چکا ہے۔

ضعیف اور قوی کے الفاظ مطلق (absolute) الفاظ نہیں۔ ان کا تعین ہمیشہ حالات کی نسبت سے ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں جو حالات تھے، ان کے تحت ضعیف اور قوی کی یہ تقسیم بنی تھی۔ نئے حالات میں یہ تقسیم ختم ہو چکی ہے۔ اب نہ کوئی ضعیف ہے اور نہ کوئی قوی۔ اب ہر آدمی خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، یکساں طور پر آزاد انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانہ حقوقِ انسان (human rights) کا زمانہ ہے، اب نئے حالات نے قدیم طرز کی تفریق ختم کردی ہے- قدیم زمانہ بادشاہت (kingship) کا زمانہ تھا۔ قدیم سیاسی نظام کے تحت انسانوں کی تقسیم حاکم (ruler) اور محکوم (ruled) کی صورت میں کی جاتی تھی۔ اب نئے حالات میں جمہوری تصور کے تحت ہر انسان کو اپنے عمل کی مکمل آزادی حاصل ہے، بشرطیکہ وہ پرامن رہے، اور کسی دوسرے فرد یا گروہ پر تشدد نہ کرے۔ قدیم زمانہ اگر محکومی کا زمانہ تھا، تو موجودہ زمانہ آزادی کا زمانہ ہے۔ قدیم زمانے میں حاکم کے حکم کی خلاف ورزی جرم تھی، موجودہ زمانے میں امن کے اصول کی خلاف ورزی اور تشدد

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page