ذمہ داری بقدر استطاعت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۲۲
ذمہ داری بقدر استطاعت
خدا کے دین میں ذمہ داری بقدر استطاعت کا اصول ہے۔ استطاعت سے زیادہ کا مکلف بنانا اللہ کا طریقہ نہیں۔ یہ اصول فرد (individual) کے لئے بھی ہے، اور اجتماع (society) کے لئے بھی۔ حوالے کے لئے ملاحظہ ہو، قرآن کی آیت 2:286 اور 64:16۔
فرد اور اجتماع کا معاملہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ جہاں تک فرد کا تعلق ہے، اس کے ذاتی معاملات پر اس کو پورا اختیار ہوتا ہے۔ ایک فرد کے لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے لئے جس چیز کو درست سمجھے، اس کو مکمل طور پر اختیار کرے۔ ایک فرد اپنی ذات کے معاملے میں معیار پسندی (idealism) کو اپنا طریقہ بنا سکتا ہے۔
اجتماع کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اجتماعی یا سماجی معاملہ ہمیشہ کئی لوگوں کے درمیان ہوتا ہے۔ سماج کے معاملے میں وہی طریقہ چل سکتا ہے، جس پر سب کا اتفاق ہو۔ اس کے برعکس کوئی طریقہ اگر خارجی طور پر کسی کی طرف سے سماج کے اوپر نافذ کیا جائے تو لازماً لوگوں کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہو جائے گا۔ ایسے موقع پر سماج کے اندر پہلے اختلاف آئے گا، پھر ٹکراؤ آئے گا، پھر نفرتیں بڑھیں گی، اور پھر آخر میں تشدد (violence) کی نوبت آ جائے گی۔ گویا مطلوب چیز تو حاصل نہ ہوگی، البتہ اس کا برعکس نتیجہ فساد کی صورت میں سامنے آ جائے گا۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ دونوں کے تقاضے کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ فرد کے لئے معیار کا اصول ہو، اور اجتماع کے لئے قابلِ عمل کا اصول۔ اس فارمولے کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:
Idealism at the individual level, pragmatism at the social level. مثلاً عدل (justice) کی بات کہنا ہر آدمی کے اپنے اختیار کی چیز ہے۔ اس کے برعکس عدل کا نظام قائم کرنا پورے سماج کا معاملہ ہے۔ پہلی چیز فرد کے ذاتی اختیار پر منحصر ہے، اور دوسری چیز سماج کے مجموعی اختیار پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues