Al-Risala · April 2015 · page 23

انسان کا مقصد

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۲۳

انسان کا مقصد

انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51:56) اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ عبداللہ ابن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی (وفات: 104ھ) نے اِلا لیعبدون کی شرح ان الفاظ میں کی ہے: اِلا لیعرفونی (تفسیر القرطبی) یعنی تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ یہاں معرفت سے مراد دریافت (discovery) ہے۔ انسان کو اللہ نے غیر معمولی ذہن (mind) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے ذہن کو استعمال کرے، وہ تمام متعلق پہلوؤں پر غور کرے، اس طرح اپنے ذاتی غور وفکر (contemplation) کے ذریعہ وہ سچائی کی دریافت تک پہنچے، وہ دنیا میں خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered truth) پر کھڑا ہو۔ یعنی ایک ایسی دنیا جہاں ہر چیز مجبورانہ اطاعت پر قائم ہے، وہاں انسان اپنے ارتقا یافتہ ذہن کے تحت اختیارانہ اطاعت کا ثبوت دے۔

خود دریافت کردہ سچائی کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ کسی آدمی کو اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچائے، وہ اپنے اندر focused thinking پیدا کرے، وہ پورے معنوں میں متلاشی انسان (seeker person) بن جائے۔ اس طرح جب ایک شخص اپنے آپ کو اپنے پورے وجود کے ساتھ، مطالعہ اور تدبر میں لگا دیتا ہے تو اس کے بعد اللہ کی خصوصی مدد اس کو حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کا ایک مخلص (chosen) بندہ بن جاتا ہے۔ اس پر اللہ کے انسپریشن (inspiration) کا نزول ہونے لگتا ہے۔ ان تمام تجربات اور مطالعات کے درمیان اس کے اندر ایک عارفانہ شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے، جس نے اللہ کی مدد سے خود سچائی کو دریافت کیا، اللہ کی مدد سے وہ اپنے آزادانہ اختیار کے تحت اللہ کا تابع بنا۔ یہی وہ افراد ہیں جو تخلیق کا اصل مقصود ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page