Al-Risala · April 2015 · page 25

تبدیلی کے دو دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۲۵

قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں تاریخ کے ایک عظیم انقلاب کا بیان ہے، یعنی مخالفِ اسلام دور کو ختم کرنا اور موافقِ اسلام دور کو لانا۔ پیغمبر اسلام سے پہلے تاریخ کا جو دور گزرا ہے، اس میں بہت سے پیغمبر آئے، لیکن ہر پیغمبر کو غیر معمولی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے ان پیغمبروں کا مشن صرف دعوت کے مرحلے تک رہا، وہ انقلاب کے مرحلے تک نہیں پہنچا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم دور ایک مخالفِ اسلام دور تھا۔ یہ دور سیاسی طاقت کے زور پر قائم تھا، ضروری تھا کہ اس دور کو ختم کیا جائے۔ مگر اس دور کو ختم کرنا جان و مال کی عظیم قربانی کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا، اصحابِ رسول نے یہی کارنامہ انجام دیا۔

جب اصحابِ رسول کی قربانیوں سے مخالفِ اسلام دور ختم ہوا تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوا کہ انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہو گیا۔ یہ ایک نہایت گہرا عمل تھا۔ اس عمل کی انجام دہی میں اہل ایمان کے علاوہ غیر اہل ایمان (سیکولر اقوام) بھی شریک ہوئے۔ اس عمل کی تکمیل مغرب میں ہوئی۔ پہلے مرحلے میں مخالفِ اسلام دور کا خاتمہ کیا گیا تھا۔ دوسرے دور میں تمام موافقِ اسلام مواقع کھل گئے۔

پہلے دور کو قرآن میں ختم فتنه (8:39) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں پیش آنے والے واقعے کو مواقع کا انفجار (opportunity explosion) کہا جا سکتا ہے۔ پہلے مرحلے کا کام اصحابِ رسول نے مکمل طور پر انجام دیا، اور اس بنا پر وہ جنت کے مستحق قرار پائے۔ دوسرے دور میں کرنے کا کام یہ ہے کہ پیش آمدہ مواقع کو دریافت کر کے ان کو دعوتِ حق کے لیے بھر پور طور پر استعمال کیا جائے۔

اصحابِ رسول نے اس معاملے میں منصوبۂ الہی کے پہلے مرحلہ کو ظہور میں لانے کے لیے اپنا حق ادا کیا، اور فوزِ عظیم کے مستحق قرار پائے۔ اب جو لوگ پیدا شدہ مواقع کو بھر پور استعمال کر کے دوسرے مرحلے کا کام انجام دیں گے، یعنی پیغامِ حق کی عالمی تبلیغ، وہ دوبارہ فوز عظیم کے مستحق قرار پائیں گے، جس طرح دور اول کے لوگ فوز عظیم کے مستحق قرار پائے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page