قرآن کا تصور تاریخ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۲۶
قرآن کا تصور تاریخ
قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے دائیں ہاتھ میں۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں (39:67)۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت ہے جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: يقبض الله الأرض ويطوي السماوات بيمينه ثم يقول : أنا الملك، أين ملوك الأرض (صحيح البخاري : 4812) ، یعنی اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں زمین میں بادشاہی کرنے والے۔ قرآن کی اس آیت میں اللہ کی قدر نہ کرنے کا مطلب اللہ کے نقشہ تخلیق کا کمتر اندازہ (underestimation) کرنا ہے، اور شرک کا مطلب ہے اللہ کے نقشہ تخلیق کے سوا کسی خود ساختہ نقشے کو اپنی زندگی کے لئے اپنانا۔ حدیثِ رسول مزید یہ بتاتی ہے کہ اس دار الامتحان میں یہ صورت عملاً قیامت تک جاری رہے گی، یہاں تک کہ قیامت میں اللہ ظاہر ہو جائے گا، اور اعلان کرے گا کہ اصل مطلوب تو یہ تھا کہ زندگی کو خالق کے نقشہ تخلیق پر چلا یا جائے، مگر خود ساختہ حکمرانوں (self-styled rulers) نے زمین پر اپنی مرضی کو جاری کر دیا۔ یہ آیت اور حدیث کسی سیاسی معنی میں نہیں ہے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ نے زمین کو دار الامتحان (testing ground) کے طور پر بنایا ہے۔ اللہ کی مرضی یہ تھی کہ زمین پر آزادی کا ماحول قائم رہے تا کہ ہر انسان کی جانچ ممکن ہو سکے۔ اور یہ واضح ہو سکے کہ کس شخص نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا، اور کس شخص نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ ہزاروں سال تک بادشاہوں نے انسان کو مذہبی آزادی (religious freedom) سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے بعد حالات میں تبدیلی ہوئی، یہاں تک کہ ساتویں صدی عیسوی میں رسول اور اصحاب رسول کو یہ موقع ملا کہ وہ بادشاہی نظام کا خاتمہ کر دیں، اور انسان کے لئے مذہبی آزادی کا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues