Al-Risala · January 2015 · page 17

موت کا واقعہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۷

موت کا واقعہ

قرآن کی کئی آیتوں میں موت کا ذکر ہے۔ ایک آیت یہ ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (29:57) یعنی ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے:

Every soul will taste death and then to Us you shall return. موت ہر آدمی کے لیے ایک لازمی تجربہ ہے۔ موت کیا ہے؟ موت، آدمی اور اس کی بنائی ہوئی دنیا کے درمیان کامل انقطاع (total detachment) کردینے والی ہے، ایک ایسا انقطاع جس کے بعد انسان کے لیے اپنی دنیا کی طرف دوبارہ لوٹنا ممکن نہ ہوگا۔ یہ موت کے واقعہ کا ایک ایسا پہلو ہے جو ہر عورت اور مرد کو ہلا دینے والا ہے۔ انسان کی اوسط عمر تقریباً ستر سال ہے۔ ہر آدمی عملاً اپنی عمر کا صرف ایک استعمال کرتا ہے، اور وہ ہے اپنے لیے یہاں ایک دنیا بنانا- مگر موت ایک لمحہ کے اندر آدمی کو اس کی بنائی ہوئی دنیا سے جدا کر دیتی ہے۔

موت ہر آدمی کے لیے ایک جبری یاد دہانی (compulsory reminder) ہے، اس بات کی یاد دہانی کہ انسان کی منزل (destination) کوئی اور ہے۔ موجودہ دنیا سے اس کا جبری انخلاء (compulsory eviction) ہونے والا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے خالق کی طرف لوٹایا جائے گا۔ وہ جہاں سے آیا تھا وہیں وہ دوبارہ چلا جائے گا۔

قرآن اسی حتمی واقعہ (fatal event) کو یاد دلانے والی کتاب ہے، کچھ آیتوں میں براہ راست طور پر، تو کچھ آیتوں میں بالواسطہ طور پر۔ قرآن کا پیغام یہ ہے کہ اپنی زندگی کے اس حتمی واقعہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ یہاں تک کہ تمھاری سوچ موت رخی سوچ بن جائے، نہ کہ حیات رخی سوچ۔ تم قبل از موت دور (pre-death period) میں بعد از موت دور (post-death period) کے لیے تیاری کو اپنا مقصد حیات بنالو۔ قرآن سے اسی مسلسل تعلق کو حدیث میں تعاہد کہاگیاہے-

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page