ایک قرآنی اسلوب
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۳۳
ایک قرآنی اسلوب
قرآن کا ایک اسلوب یہ ہے کہ ایک خصوصی حوالہ (particular reference) کے ذریعہ عمومی اصول (general principle) کو بیان کرنا۔ اس کی ایک مثال قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت میں اس طرح ملتی ہے: اَلَّذِیۡنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَکُمۡ فَاخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ اِیۡمَانًا ٭ وَّقَالُوۡا حَسَبُنَا ٱللَّہُ وَنِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ (3:173) یعنی جن سے لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمہارے خلاف بڑی طاقت جمع کر لی ہے اس سے ڈرو، لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ اس آیت پر غور کرنے سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ جب انسان کے اندر زندہ ایمان (living faith) موجود ہو تو ہر انسانی خطرہ اس کے یقین میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ خطرہ کی حالت اس کے لئے ایک مثبت کمپلشن (compulsion) کی صورت پیدا کرتی ہے۔ جب وہ محسوس کرتا ہے کہ انسان کی رسی اس سے چھوٹ رہی ہے تو اس کا ایمان مزید بیدار ہو جاتا ہے، اور وہ اللہ کی رسی کو اور شدت کے ساتھ پکڑ لیتا ہے۔ اس طرح ہر محرومی اس کے لئے ایک نئی یافت کا سبب بن جاتی ہے۔
خشیت انسانی کے موقع پر یقین خداوندی میں اضافہ ہونا، ایک داخلی عمل (internal process) کے ذریعہ ہوتا ہے۔ خشیت انسانی کا پیش آنا، اس کے اندر ایک ذہنی دھماکہ پیدا کرتا ہے۔ اب اگر اس کے اندر زندہ ایمان موجود نہ ہو تو وہ مایوسی کا شکار ہو جائے گا، وہ پست ہمت بن کر رہ جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر اس کے اندر زندہ ایمان موجود ہو تو ہر انسانی خشیت کا واقعہ اس کو ایمانی غذا عطا کرے گا۔ اللہ کی طرف رجوع ہونے کی بنا پر اس کے یقین میں اضافہ ہو جائے گا۔ وہ مزید استقامت کے ساتھ اللہ کے دین پر قائم ہو جائے گا۔ ہر بحران اس کی شخصیت میں ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues