Al-Risala · April 2015 · page 32

اسلام کی تعلیمات

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۳۲

اسلام کی تعلیمات

اسلام کی کچھ تعلیمات وہ ہیں جو علی الاطلاق (absolute sense) طور پر مطلوب ہیں۔ اور دوسری تعلیمات وہ ہیں جن کا حکم حالات کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ مثلاً عبادت وہ عمل ہے، جو ہر فرد سے مطلق طور پر مطلوب ہے۔ اس کے برعکس سیاست کا تعلق حالات سے ہے، جیسے حالات ویسا سیاسی حکم۔

عبادت کا اصول حدیث کے الفاظ میں یہ ہے : صلوا كما رأيتموني أصلي (البخاري، رقم الحديث: 6008) یعنی نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اس کے مقابلہ میں سیاست کا تعلق حالات سے ہے۔ اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم یہ ہے : وَأَمْرُهُمْ شُوْرَى بَيْنَهُمْ (42:38) یعنی اور ان کا نظام شوریٰ پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاست کے معاملہ میں کوئی مطلق ماڈل نہیں، وہ تمام تر اجتماعی حالات پر موقوف ہے۔

عبادت ایک انفرادی معاملہ ہے۔ وہ ایک ذاتی پیروی کی چیز ہے۔ اس لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی عبادت کے معاملے میں ذاتی طور پر جس طریقے کو معیاری طریقہ سمجھے، اس کو اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کرلے، لیکن سیاست کا معاملہ ایک اجتماعی معاملہ ہے۔ سیاست کے معاملے میں وہی طریقہ عملاً چل سکتا ہے، جس پر تمام لوگ راضی ہوں۔ ایک شخص یا ایک گروہ اگر ایسا کرے کہ وہ سیاست کے معاملہ میں اپنے پسندیدہ ماڈل کو نافذ (implement) کرنے لگے تو اس سے لازماً ٹکراؤ ہوگا، اور باعتبار نتیجہ اصلاح کے بجائے فساد پھیل جائے گا۔

اس مسئلے کا قابلِ عمل حل یہ ہے کہ سیاست کے معاملے کو شوری (اجتماعی مشورہ) کا معاملہ قرار دیا جائے۔ شورائی نظام کو موجودہ زمانے میں جمہوری نظام کی حیثیت سے قبول عام حاصل ہو گیا ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ بھی اس مقبول عام جمہوری طریقے کو مانیں اور اس کے مطابق سیاسی نظام کی تشکیل کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page