Al-Risala · April 2015 · page 35

عدل کا مسئلہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۳۵

عدل کا مسئلہ

قرآن میں عدل کا مادہ 28 بار استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ عدل کے ہم معنی الفاظ بھی قرآن کی آیتوں میں بار بار استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں عدل (justice) کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ مگر اسلوب کے اعتبار سے قرآن کی آیتوں میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ زیادہ مقامات پر قرآن میں عدل کا لفظ لازم کے صیغے (intransitive form) میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا (6:152) یعنی جب بولو تو انصاف کی بات بولو۔ عام حالات میں عدل کا تقاضا یہی ہے۔ عام حالات میں ہر انسان سے یہی مطلوب ہے کہ وہ انصاف کی بات کہے، وہ لوگوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے۔ مومن پر یہ ذمے داری نہیں ہے کہ وہ عملاً ایک منصفانہ حکومت قائم کرے۔ اس کی اصل ذمے داری یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں منصفانہ روش اختیار کرے۔ دوسرا استعمال وہ ہے جہاں قرآن میں عدل کا حکم متعدی کے صیغہ (transitive form) میں آیا ہے، یعنی عدل کا نظام قائم کرنا۔ اس کی ایک مثال وہ ہے جو حضرت داؤد کے ذیل میں آئی ہے: يَا دَاؤُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ (38:26) یعنی اے داؤد، ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ (حاکم) بنایا ہے تو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ قرآن کی اس آیت میں حق کا لفظ عدل و قسط کے معنی میں آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حاکم (ruler) کا فرض ہے کہ وہ عدل کو عملاً نافذ کرے ۔ وہ دوسروں کو عدل و قسط کا پابند بنائے۔ اسلام کے مطابق انسان کی ذمے داری بقدر استطاعت (2:286) ہے ۔ عام انسان جس کو اقتدار حاصل نہیں ہے، اس کی ذمے داری یہ ہے کہ اپنے دائرہ عمل میں ہمیشہ وہ انصاف کی روش اختیار کرے۔ لیکن جس شخص کو اللہ اقتدار کا مالک بنائے ، اس کو ذاتی انصاف پسندی کے علاوہ یہ بھی کرنا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے بقدر انصاف کا نظام قائم کرے۔ بقدر امکان وہ لوگوں کو عدل کا پابند بنائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page