Al-Risala · April 2015 · page 36

کلمہ سوا کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۳۶

کلمہ سوا کا اصول

قرآن کی سورہ آل عمران میں اجتماعی زندگی کے اصول کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: قُلْ يَٰأَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ (3:64) یعنی کہو اے اہل کتاب ، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔

کلمہ سوا کا مطلب کا من ٹرم (common term) یا کا من گراؤنڈ (common ground)

ہے۔ یہ بات جو قرآن میں کہی گئی ہے، وہ اجتماعی زندگی کا ایک عمومی اصول ہے۔ اجتماعی زندگی میں جب کوئی کام کرنا ہو تو اس کے آغاز کا درست طریقہ یہ ہے کہ طرفین کے درمیان کا من گراؤنڈ کو تلاش کیا جائے، اور اُس کے حوالے سے اپنا کام شروع کیا جائے ۔ یہ طریقہ قابلِ عمل بھی ہے، اور باعتبار نتیجہ زیادہ مؤثر بھی۔

کامن گراؤنڈ کی کوئی محدود فہرست نہیں۔ جن لوگوں کے درمیان یا جس زمانے میں کام کرنا مطلوب ہو، اس کے مطابق دیکھا جائے گا کہ وہ کیا چیز ہے جو اس وقت کے حالات میں طرفین کے درمیان کا من گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کامن گراؤنڈ کا تعین کسی نظریاتی ماڈل کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ عملی حالات کی بنیاد پر اس کا تعین کیا جائے گا، ورنہ وہ مؤثر نہ ہوسکے گا۔ مثلاً، قدیم زمانے میں ایک مذہبی نظریہ طرفین کے درمیان کا من گراؤنڈ بن سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ سیکولرزم کا زمانہ ہے۔ اب مؤثر عمل کے لئے ضروری ہوگا کہ طرفین کے درمیان کوئی سیکولر نوعیت کا کامن گراؤنڈ تلاش کیا جائے ۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ اندیشہ ہے کہ کیا جانے والا عمل مؤثر نہ ہو، وہ فریق ثانی کی نسبت سے بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔ کامن گراؤنڈ کی ضرورت صرف آغاز کار کے لئے ہے۔ آغاز کے بعد بقیہ چیزیں تدریجی طور پر خود بخود اس کا حصہ بنتی چلی جائیں گی۔ کامن گراؤنڈ کا تعلق پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) سے ہے، نہ کہ مطلق معنوں میں آئیڈیالوجی سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page