نظریہ، تاریخ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۳۸
نظریہ، تاریخ
کسی مشن کا ایک حصہ وہ ہے، جس کو نظریہ (ideology) کہا جاتا ہے، اور دوسری چیز وہ ہے جس کو عملی تدبیر (strategy) کہا جاتا ہے۔ بنیادی نظریہ کی حیثیت ابدی اصول کی ہوتی ہے۔ اسی کے برعکس، عملی تدبیر ہمیشہ حالات کے اعتبار سے اختیار کی جاتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہر مشن میں ہوتی ہیں، خواہ وہ کوئی مذہبی مشن ہو یا کوئی سیکولر مشن۔
مثلاً، مہاتما گاندھی کا مشن ایک سیکولر مشن تھا، ان کی آئیڈیا لوجی تمام تر اہنسا (nonviolence) پر مبنی تھی ۔ اس کے مطابق انھوں نے اپنی پوری تحریک چلائی۔ اس کے ساتھ وقت کے عملی تقاضے کے تحت انھوں نے ایک طریقہ اختیار کیا، جس کو سول نافرمانی (civil disobedience) کہا جاتا ہے۔ ان کی امن کی آئیڈیا لوجی ، ان کے مشن کا مستقل حصہ تھی۔ لیکن سول نافرمانی کی حیثیت ایک وقتی تدبیر کی تھی، جو حالات کی نسبت سے مطلوب تھی۔ حالات جب بدلے تو سول نافرمانی کا طریقہ ایک غیر متعلق (irrelevant) طریقہ بن گیا۔ یہی معاملہ اسلام کا بھی ہے۔ اسلام کی آئیڈیالوجی توحید کی آئیڈیا لوجی ہے، یہ مکمل طور پر ایک پر امن آئیڈیا لوجی ہے۔ نظریہ توحید کی حیثیت اسلام میں ابدی نظریہ کی ہے۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی آنے والی نہیں۔ اسی کے ساتھ اسلام کے دور اول کی تاریخ بتاتی ہے کہ اشاعت توحید کے پر امن مشن کے ساتھ عرب میں غزوات بھی پیش آئے، یعنی فریق ثانی کے ساتھ جنگ۔ مگر یہ غزوات (قتال) اسلام کی تاریخ میں عملی تدبیر کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ آئیڈیا لوجی کا مستقل حصہ نہیں۔ قرآن کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں قسم کی تعلیمات کو الگ کر کے دیکھا جائے ۔ توحید کی آیتوں کو اسلام کی ابدی آئیڈیا لوجی کا حصہ سمجھا جائے، اور قتال کی آیتوں کو حالات کی نسبت سے پیش آنے والی وقتی تدبیر کا حصہ۔ موجودہ زمانے میں عالمی حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں، پہلے اگر دورِ قتال تھا تو اب دورِ امن ہے۔ ایسی حالت میں قتال کو اب عملاً اسلام کی وقتی تاریخ کا حصہ سمجھا جائے گا، نہ کہ اسلام کے ابدی مشن کا حصہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues