کائناتی شخصیت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۳۷
کائناتی شخصیت
قرآن میں فرعون مصر کا ذکر ہے، جس کو اللہ نے اس کی سرکشی کی بنا پر تباہ کر دیا تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ (44:29) یعنی پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین، اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔ قرآن کی اس آیت میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کے مرنے پر آسمان و زمین نہیں روتے۔ دوسری طرف اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں۔ اس دوسرے پہلو کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: مامن انسان إلا له بابان في السماء يصعد عمله فيه، وينزل رزقه، فإذا مات العبد المؤمن بكياعليه (حلية الأولياء: 3/53) یعنی ہر انسان کے لئے آسمان میں دو دروازے ہوتے ہیں، ایک دروازے کے ذریعہ اس کا عمل اوپر جاتا ہے، اور دوسرے دروازے کے ذریعہ اس کا رزق نازل ہوتا ہے، جب بندۂ مومن پر موت آتی ہے تو دونوں اس کے لئے روتے ہیں۔ اس حدیث رسول میں تمثیل کے اسلوب میں ایک عظیم حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ ایک سچا مومن ایک کائناتی شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ تدبر اور تفکر کے ذریعے مسلسل طور پر اللہ کی طرف سے معرفت کا رزق حاصل کرتا رہتا ہے، وہ خدا کی تخلیق میں غور و فکر کر کے مسلسل طور پر ربانی رزق حاصل کرتا رہتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ گویا پوری کائنات کے لئے ایک مطلوب شخص بن جاتا ہے، کیونکہ کائنات اسی لئے پیدا کی گئی ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اس پر غور کر کے اس سے حق کی معرفت حاصل کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کی ایک فزیکل شخصیت (physical personality) ہوتی ہے، اور دوسری اس کی فکر کی شخصیت (intellectual personality)۔ مومن کی فزیکل شخصیت اس کے جسم تک محدود ہوتی ہے، لیکن اس کی فکری شخصیت پوری کائنات تک پھیلی ہوئی ہے۔ فکری سطح پر بننے والی شخصیت ہی وہ کائناتی شخصیت ہے، جس کے کھونے پر زمین و آسمان پر وہ کیفیت گزرتی ہے، جس کو یہاں رونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues