عالمی نشانۂ دعوت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۴۲
صبر کی اہمیت
قرآن میں صبر کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّٰبِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10) یعنی بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ صبر کی اتنی زیادہ اہمیت اس لئے ہے کہ صبر (patience) آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مثبت اعمال کر سکے، جو غیر معمولی اجر کا باعث بنتے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ اسلام میں ساری اہمیت تعمیرِ شخصیت کی ہے، جس کو قرآن میں تزکیہ (20:76) کہا گیا ہے۔ موجودہ دنیا امتحان (test) کی دنیا ہے۔ یہاں مسلسل طور پر دوسروں کی طرف سے ایسے حالات پیش آتے رہتے ہیں، جو آدمی کو گوارا نہیں ہوتے، جو آدمی کے اندر نفرت، غصہ، اشتعال اور منفی سوچ جیسی کیفیات پیدا کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی منفی کیفیات آدمی کو مسلسل طور پر ڈسٹریکٹ (distract) کرتی رہتی ہیں۔ وہ آدمی کی توجہ کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ کی طرف کر دیتی ہیں۔
یہ ایک تباہ کن صورت حال ہے۔ مگر یہ ناموافق صورت حال فطرت کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئی آدمی اس ناخوش گوار صورت حال کا خاتمہ کرنے پر قادر نہیں۔ ایسی حالت میں اس کے مضر انجام سے اپنے کو بچانے کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی ہر ایسے ناخوش گوار موقعے پر صبر کا طریقہ اختیار کرے۔
صبر کی یہ اہمیت تدبیر کے اعتبار سے ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس لئے ہے کہ وہ آدمی کو ردعمل سے بچاتا ہے، اور ردعمل (reaction) ہر قسم کی برائیوں کی جڑ ہے۔ ہر برائی ابتداء کسی ناخوشگوار واقعہ کے خلاف ردعمل سے پیدا ہوتی ہے، اور پھر بڑھ کر وہ بگاڑ (breakdown) کی آخری حد تک پہنچ جاتی ہے۔ صبر آدمی کو ردعمل سے بچاتا ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو ردعمل سے بچالے، وہ گویا تمام برائیوں سے محفوظ ہو گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues