Al-Risala · April 2015 · page 43

جنتی کام

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۴۳

جنتی کام

قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا مستحق امیدوار (deserving candidate) بننے کی تین خاص شرطیں ہیں۔ دنیا میں جو شخص ان شرطوں کو پورا کرے گا، اس کو آخرت کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا۔ وہ تین شرطیں یہ ہیں:

1- جنت میں داخلہ کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی خالق (Creator) کی گہری معرفت حاصل کرے۔ وہ تخلیق (creation) میں غور وفکر کر کے مسلسل طور پر اپنی معرفت کو بڑھاتا رہے، یہاں تک کہ اس کے اندر ایک ایسی ربانی شخصیت پیدا ہو جائے جو ہر لمحہ الحمد لله (praise belongs to God) کی اسپرٹ میں جینے لگے۔ جو لوگ دنیا میں اپنے اندر اس قسم کی شخصیت بنائیں، انھیں کو آخرت میں یہ موقع ملے گا کہ وہ دوبارہ جنت کے معیاری ماحول میں الحمد لله (39:75) کہنے کی توفیق پائیں۔ 2- جنت میں داخلے کا مستحق بننے کی دوسری شرط وہ ہے جو انسانوں کی نسبت سے مطلوب ہے۔ اس شرط کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (26:89) یعنی مگر وہ جو اللہ کے پاس قلبِ سلیم لے کر آئے۔ قلبِ سلیم کا مطلب پاک دل (sound heart) ہے۔ قلب سلیم کا مطلب دوسرے الفاظ میں وہی ہے جس کو ربانی شخصیت کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ تخلیقی اعتبار سے قلبِ سلیم کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد فطرت پر پیدا ہوتے ہیں، اور فطرت پر پیدا ہونے کا نام ہی قلبِ سلیم کے تحت پیدا ہونا ہے۔ مگر موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں کے تمام حالات امتحان کی مصلحت کے ساتھ بنے ہیں۔ اس لئے یہاں ہمیشہ ہر قسم کے منفی و مثبت دونوں قسم کے اسباب موجود رہتے ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ دنیا میں پیدا ہوتے ہی آدمی کی کنڈیشننگ (conditioning) شروع ہو جاتی ہے۔ پیدا ہونے کے وقت آدمی مسٹر نیچر ہوتا ہے، لیکن اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ مسٹر کنڈیشنڈ (Mr. Conditioned) بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page