جنتی کام
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۴۴
اس بنا پر قلب سلیم والا آدمی وہ ہے جو بڑا ہونے کے بعد دوبارہ اپنے آپ کو اس ابتدائی فطرت پر قائم کرے، جس پر پیدا کرنے والے نے اس کو پیدا کیا تھا۔ یعنی وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرے۔ وہ اپنی سوچ، اپنے مزاج اور اپنی عادات کے اعتبار سے اپنے اندر اس مثبت شخصیت (positive personality) کی تعمیر کرے، جو جنت کے معاشرے کا ممبر بننے کے لئے ضروری ہے۔
جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ جنت میں ہر طرف امن کا ماحول ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جنت کو دار السلام (Home of Peace) کہا گیا ہے۔ جنت میں ہر طرف صدق گفتاری (54:55) کا ماحول ہوگا۔ جنت میں نہ کوئی لغو (nuisance) گفتگو کرنے والا ہوگا، اور نہ گناہ کی بات کرنے والا (56:25)۔ موجودہ دنیا ان صفات کی تربیت کا مقام ہے، جو افراد موجودہ دنیا میں اپنے اندر یہ صفات پیدا کریں، وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے معیاری معاشرے کے ممبر بنائے جائیں گے۔
3 ۔ جنت کے استحقاق کی تیسری شرط یہ ہے کہ آدمی کو اسی دنیا میں جنت کا تعارف (47:6) حاصل ہو جائے ۔ یہ حال اس انسان کا ہوتا ہے، جو موجودہ دنیا میں اپنے ذہن کو اتنا ترقی یافتہ بنائے کہ اس کو شعوری طور پر جنت کی دریافت ہو جائے، وہ فطرت کے مناظر (natural scenes) کے اندر جنت کی جھلک (glimpse) دیکھنے لگے، وہ درختوں کی ہریالی میں جنت کے حسن کو دریافت کرلے، وہ چڑیوں کے چہچہے میں جنت کا نغمہ سننے لگے، وہ دریا میں شفاف پانی کو بہتے ہوئے دیکھے تو وہ جنت کی نہروں کو یاد کرنے لگے۔
جنت میں داخلے کا فیصلہ ہر عورت اور ہر مرد کے ذاتی کردار کی بنیاد پر ہوگا۔ جس فرد نے دنیا کی زندگی میں اپنے اندر مذکورہ قسم کے اوصاف کو پیدا کیا ہوگا، وہی آخرت میں اس کا مستحق قرار پائے گا کہ اس کو جنت میں داخلہ ملے۔ جنت کسی آدمی کو اس کی ذاتی خصوصیت (merit) کی بنیاد پر ملے گی، کسی اور مفروضہ کی بنیاد پر کسی شخص کو ہرگز جنت ملنے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues