قرآن اور مثل قرآن
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۴۶
بذریعہ انتخاب (election) کیا جائے گا۔
اسی طرح ایک اور مثال یہ ہے کہ قرآن میں تیاری کا حکم دیتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (8:60) یعنی اور ان کے لئے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت۔ اس آیت میں قوت سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: ألا إن القوة الرمي، ألاإن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي (صحیح مسلم : 1917) یعنی سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔ مذکورہ حدیث تطبیق کی ایک مثال ہے۔ اس میں اعدادقوت کی قرآنی تعلیم کو ساتویں صدی عیسوی کے حالات کے اعتبار سے بیان کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں حالات بدل چکے ہیں، اب نئے حالات کے لحاظ سے اعداد قوت کا مطلب ہوگا، اعداد علم۔ یعنی علم اور سائنس کے اعتبار سے اپنے آپ کو قوی بنانا۔ آج کی قوت تیر اندازی نہیں ہے، بلکہ وہ علوم ہیں جن کو سائنسی علوم کہا جاتا ہے۔ قرآن کی یہ تطبیق بھی ایک سنت رسول ہے، جو علمائے اسلام کے لئے ہر دور میں قابل اتباع ہے۔ ہر زمانے میں قوت کا معیار اور موثر کام کرنے کے طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ قدیم قبائلی کلچر (tribal culture) میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنگ کے ذریعہ دبدبہ قائم ہوتا ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں نئے وسائل کے تحت یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پر امن طریقہ (peaceful method) کے ذریعہ دبدبہ قائم کیا جائے ۔ یہی معاملہ ادبی اسلوب (idiom) کا ہے۔ اس اعتبار سے بھی موجودہ زمانے میں نئے نئے اسلوب رائج ہوئے ہیں۔ تطبیق کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو آج کے اسلوب میں بیان کیا جائے ۔ مثلاً قرآن میں نقل و حرکت کے ذریعہ دعوت کو سیاحت کہا گیا ہے۔ آج کے اسلوب میں اس کو دعوہ ان ایکشن (dawah in action) کہا جاسکتا ہے۔ قرآن اپنے مشن کے اعتبار سے ہمیشہ ایک رہے گا، لیکن اپنی تطبیق (application) کے اعتبار سے اس میں اضافے ہوتے رہیں گے ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لا تنقضی عجائبہ (الترمذی: 2906) یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues