دنیا، آخرت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۴۷
دنیا، آخرت
انسان پیدائش سے پہلے غیر موجود تھا، پھر اللہ نے اس کو پیدا کر کے وجود (19:9) بخشا۔ انسان جب پیدا ہو کر سیارۂ ارض (planet earth) پر آتا ہے تو معجزاتی طور پر وہ پاتا ہے کہ یہاں اس کے لئے ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ اسی واقعے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34) یعنی اور اس نے تم کو ہر چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا۔ تخلیق کے بعد یہ انسان کے اوپر خدا کی دوسری رحمت ہے۔ یہ انوکھی بات ہے کہ انسان کو پیدا ہوتے ہی فی الفور ایک ایسی دنیا مل جاتی ہے، جہاں اس کے لئے تمام سامان حیات پیشگی طور پر موجود ہیں۔ گویا کہ خالق ہر پیدا ہونے والے انسان سے یہ کہہ رہا ہے کہ اے میرے بندے، جاؤ اور میری دنیا میں آزادانہ طور پر رہو۔ وہاں تمھارے لئے تمھاری ضرورت (need) کی تمام چیزیں وافر مقدار میں بلا قیمت موجود ہیں۔ یہی معاملہ مزید اضافے کے ساتھ آخرت کا ہے۔ آخرت کے دورِ حیات میں انسان کے لئے جو معیاری جنت بنائی گئی ہے اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (41:31) یعنی اور تمھارے لیے وہاں ہر چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے اور تمھارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ یہ انسان کے لئے ناقابل قیاس حد تک ایک عجیب رحمت کا معاملہ ہے۔ یعنی ایک ابدی نوعیت کی معیاری دنیا۔ گویا خالقِ انسان سے یہ کہہ رہا ہے کہ اے میرے بندے، آخرت کے ابدی دور حیات میں تمھارے رب نے تمھارے لئے ایک ایسی آئیڈیل دنیا تیار کر رکھی ہے، جہاں تمھاری طلب (demand) اور تمھاری اشتہا (desire) کے مطابق تم کو ہر چیز ملے گی۔ جہاں تمھارے لئے کامل فل فل منٹ (total fulfillment) کا انتظام ہے۔ ایک ایسی دنیا جو پوری طرح حُزن (sorrow) سے خالی ہوگی۔ موجودہ دنیا کا سامان حیات ہر پیدا ہونے والے انسان کے لئے ہے، لیکن آخرت کی جنت صرف اس انسان کے لئے ہوگی، جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues