Al-Risala · May 2015 · page 12

ہر آدمی ایک کیس ہے

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۲

ہر آدمی ایک کیس ہے

اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ جب کسی سے اپنی پسند کی بات سنتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتے ہیں، اور اگر وہ اس سے اپنی پسند کے خلاف کوئی بات سنتے ہیں تو وہ اس کے بارے میں بُری رائے قائم کرلیتے ہیں۔ یہ طریقہ آدابِ ملاقات کے خلاف ہے۔ ملاقات کا مقصد ایک انسانی مطالعہ ہے، نہ کہ لوگوں کے بارے میں اچھی رائے یا بُری رائے قائم کرنا۔ ہر انسان ایک کامل انسان ہے۔ وہ اپنی ذات میں پوری نوعِ انسانی کا نمائندہ ہے۔ ہر عورت اور مرد کا ردِ عمل گویا پوری انسانیت کا ردِ عمل ہے۔ ہر انسان کا مطالعہ گویا پوری انسانیت کا مطالعہ ہے۔ ایک انسان کو جان لینا گویا پوری نوعِ انسانی کو جان لینا ہے۔

اس اعتبار سے ہر انسان گویا انسانیت کی ایک لائبریری ہے۔ اگر آپ کے اندر غیر جانبدارانہ سوچ ہے، اگر آپ تعصب سے خالی ہو کر انسان کا مطالعہ کر سکتے ہیں تو ہر انسان آپ کے لیے پوری انسانیت کے مطالعے کا ذریعہ بن جائے گا۔ آپ ایک انسان کو دریافت کر کے تمام انسانوں کو دریافت کر لیں گے، حتیٰ کہ آپ کا محدود خاندان وسیع تر معنوں میں انسانیت کی لائبریری بن جائے گا۔ ہر انسان کبھی خوش ہوتا ہے، کبھی غمگین ہوتا ہے، کبھی وہ مثبت ردِ عمل کا اظہار کرتا ہے اور کبھی منفی ردِ عمل کا اظہار۔ اسی طرح وعدہ پورا کرنا اور وعدہ پورا نہ کرنا، شکایت کو درگزر کرنا اور درگزر نہ کرنا، دیانت داری کے ساتھ معاملہ کرنا اور بددیانتی کے ساتھ معاملہ کرنا، صدق بیانی کرنا اور کذب بیانی کرنا، مدلّل اختلاف کرنا اور الزام تراشی کرنا، قابلِ پیششن گوئی کردار کا حامل ہونا اور نا قابلِ پیششن گوئی کردار کا نمونہ بن جانا، وغیرہ۔ اس طرح کا ہر معاملہ بظاہر ایک انسان کی طرف سے پیش آتا ہے، لیکن وسیع تر معنوں میں وہ تمام انسانوں کے سلوک کو بتاتا ہے۔ اگر آپ کے اندر گہرا مطالعہ کرنے کی صلاحیت ہو تو آپ ایک فرد میں تمام افراد کو دیکھ لیں گے، آپ ایک خاندان کے اندر پوری انسانیت کے معاملے کو دریافت کر لیں گے۔ بشرطیکہ آپ کے اندر بصیرت (wisdom) کی صلاحیت پائی جاتی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page