Al-Risala · May 2015 · page 13

ہدایت کا راز

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۳

ہدایت کا راز

دنیا میں کوئی شخص صحیح راستے پر چلتا ہے، اور کوئی شخص صحیح راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ اس فرق کا راز کیا ہے۔ یہ حقیقت قرآن کی ایک آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: ﴿وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُم مُّعْرِضُونَ﴾ (8:23) یعنی اگر ان میں کسی بھلائی کا علم اللہ کو ہوتا تو وہ ضرور انھیں سننے کی توفیق دیتا اور اگر اب وہ انھیں سنوا دے تو وہ ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کا پانا اللہ کی مدد سے ہوتا ہے۔ اللہ جس انسان کے اندر خیر دیکھتا ہے، وہ اس کو ہدایت کی توفیق دیتا ہے۔ یعنی اس کی زندگی کو اس طرح منیج (manage) کرتا ہے کہ وہ صحیح راستے کو پالے، اور فکر و عمل کے اعتبار سے وہ اس راستے پر قائم ہوجائے۔ خیر (virtue) سے کیا مراد ہے، اس کا جواب ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: من تواضع لله درجة رفعه الله درجة، حتى يجعله في عليين، ومن تكبر علی الله درجة، وضعه الله درجة، حتى يجعله في أسفل السافلين (مسند احمد: 11724) یعنی جو شخص اللہ کے لیے ایک درجہ تواضع کرتا ہے، اللہ اس کو ایک درجہ بلند کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کو علیین میں شامل کر دیتا ہے، اور جو شخص اللہ پر ایک درجہ تکبر کرتا ہے، اللہ اس کو ایک درجہ پست کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کو اسفل السافلین میں پہنچا دیتا ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کی ہدایت اس کو ملتی ہے جس کے اندر تواضع (modesty) کی صفت موجود ہو۔ اور وہ شخص اللہ کی ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے، جس کے اندر کبر (arrogance) کا مزاج پایا جائے۔ یہی ہدایت اور گمراہی کا خلاصہ ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی خود اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ اس کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے۔ اللہ اپنے علم کامل کے ذریعے اس حقیقت کو جان لیتا ہے۔ پھر وہ تواضع کی صفت والے انسان کو منیج کرتے ہوئے ہدایت کی منزل تک پہنچا دیتا ہے، اور جس شخص کے اندر کبر موجود ہو، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بھٹک کر منزل سے دور ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page