مغربی تہذیب ، مؤید تہذیب
الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۱
مغربی تہذیب ، مؤید تہذیب
بیسویں صدی کے نصف اول میں کمیونزم کا عروج ہوا۔ اس زمانے میں کمیونسٹ لوگوں نے یہ نظریہ بنایا: جو ہمارا ساتھی نہیں، وہ ہمارا دشمن ہے مگر یہ ثنویت (dichotomy) غلط تھی۔ فطرت کے قانون کے مطابق صحیح بات یہ ہے کہ جو ہمارا ساتھی نہیں، وہ ہمارا امکانی موید (potential supporter) ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم علما اور مسلم رہنما بھی اسی غیر فطری سوچ کا شکار ہو گئے۔ حدیث کے مطابق وہ بصیر زمانہ (صحیح ابن حبان: 361) ثابت نہ ہو سکے۔
اس بے خبری کی بنا پر انھوں نے یہ رائے قائم کر لی کہ مغربی تہذیب، اسلام دشمن تہذیب ہے۔ حالاں کہ البخاری کی ایک روایت (3062) کے مطابق وہ اسلام مؤید تہذیب (supporting civilization) تھی۔
دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں مولانا شبلی نعمانی نے ایک نظم لکھی، جس کا ایک شعر یہ تھا: کہاں تک لو گے، ہم سے انتقام فتح ایوبی دکھاؤ گے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک آسٹریا کے نومسلم لیو پولڈ اسد نے اپنی کتاب Islam at the Crossroads میں لکھا ہے کہ مسیحی یورپ کے لیے اسلام کے خلاف تعصب ان کا پیشی روگ بن چکا ہے۔ Their prejudice against Islam is simply an atavistic instinct شامی عالم الشیخ عبد الرحمن حسن حبنکہ المیدانی نے عربی زبان میں سلسلہ اعداء الاسلام کے تحت کئی کتابیں لکھی ہیں، ان میں سے ایک کتاب یہ ہے: اجنحة المكر الثلاثة و خوافيها (التبشير، الاستشراق، الاستعمار)۔ اس کتاب میں انھوں نے عالمی سطح پر کام کرنے والی تین مسلم مخالف سازشوں کا ذکر کیا ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کو تباہ کر دینا چاہتی ہیں۔ وہ تین سازشیں یہ ہیں، تبشیر (Christian Mission)، استشراق (Orientalism)، استعمار (Colonialism)۔