Al-Risala · May 2015 · page 22

مغربی تہذیب ، مؤید تہذیب

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۲

یہ باتیں بلا شبہ اندھے پن کی حد تک بے خبری کی باتیں ہیں۔ اصل حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حالات میں ایسی انقلابی تبدیلیاں کی ہیں، جس کے نتیجہ میں پورا دور عملاً اسلام کی تائید (support) کا دور بن گیا ہے۔ قدیم زمانے میں جو مساوات (equation) تھی، وہ حامیانِ حق اور مخالفینِ حق کے درمیان تھی۔ اب جدید تبدیلیوں کے بعد ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوئی ہے، اور وہ ہے حامیانِ حق اور مؤیدینِ حق کی مساوات۔ موجودہ زمانے میں جو نئے ظاہرے پیدا ہوئے ہیں، وہ سب کے سب مؤیدین اسلام (supporters of Islam) ہیں، نہ کہ مخالفین اسلام— مغربی تہذیب، جمہوریت، کھلا پن (openness)، فکری آزادی، مذہبی نا طرف داری، اقوام متحدہ، سائنسی دریافتیں، صنعتی انقلاب، جدید سیاحت (modern tourism)، کانفرنس کلچر، لائبریری کا ادارہ، وغیرہ۔ سب کے سب اسلام کے لیے عظیم تائیدی مواقع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بشر طیکہ اہل ایمان ان مواقع کو سمجھیں، اور ان کو یہ امن منصوبہ (peaceful planning) کے تحت استعمال کریں۔

موجودہ زمانے کے مسلمان ان حقیقتوں سے کیوں بے خبر ہو گئے۔ اس کا سبب ایک بدعت ہے، اور وہ ہے شخصیتوں کو بڑے بڑے لقب (title) دینا۔ جب آپ کسی شخصیت کو بڑا لقب دے دیں تو اس کے بعد سوچنے کا عمل (thinking process) رک جاتا ہے۔ القاب کلچر سے پہلے آدمی کے مائنڈ میں ہمیشہ کا ماہوتا ہے، القاب کلچر کے بعد اس میں فل اسٹاپ لگ جاتا ہے۔ ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ کسی کو ملک الاملاک نہ کہو، یعنی شہنشاہ (emperor) کا لقب نہ دو (صحیح البخاری: 6202)۔ شہنشاہ (emperor) صرف سیاسی لقب کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ لقب کلچر کے معنی میں ہے، یعنی لوگوں کو بڑے بڑے القاب نہ دو۔ افراد کو بڑے بڑے لقب (title) دینا، فکری اعتبار سے ایک ہلاکت خیز طریقہ ہے۔ کسی کو بڑا لقب دینے کے بعد شعوری یا غیر شعوری طور پر ہوتا ہے کہ لوگ اس شخص کی بات کو حرف آخر (final word) سمجھ لیتے ہیں۔ یہ ذہن

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page